حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 148 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 148

148 پھر جان لو کہ اللہ اسم جامد ہے اور اسکی حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اسم ذات ہے اور ذات ایسے امور میں سے نہیں جن کا ادراک ہو سکے۔لفظ اللہ کو مشتق قرار دے کر جو معنے کئے جاتے ہیں وہ سب جھوٹ اور محض خرافات ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی کنبہ (حقیقت) کا پانا ( تمام خیالات سے بالا اور قیاسات سے دور ہے۔جب تم محمد رسول اللہ کہتے ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ محمد (ﷺ ) ذات باری کی صفات کے مظہر ہیں کمالات میں اس کے جانشین ہیں اور دائرہ ظلیت کو کامل کرنے والے اور سب رسالتوں کے خاتم ہیں۔پس جو کچھ میں دیکھتا اور پاتا ہوں اس کا ماحصل یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ تمام مخلوقات سے افضل ہیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ کا مظہر رسول اللہ علیہ کے دو ظہوروں محمد اور احمد میں ہوا۔اب نبی کامل علی کی ان صفات اربعہ کو بیان کر کے صحابہ کرام کی تعریف میں پورا بھی کر دیا گویا اللہ تعالیٰ خلقی طور پر اپنی صفات دینا چاہتا ہے۔اس لئے فنا فی اللہ کے یہی معنی ہیں کہ انسان الہی صفات کے اندر آ جاوے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 430) باری تعالیٰ کی صفات اربعہ میں ایک تعلیم ہے اور خدا تعالیٰ کی چار اعلیٰ درجہ کی صفتیں ہیں جو اُم الصفات ہیں اور ہر ایک صفت ہماری بشریت سے ایک امر مانگتی ہے اور وہ چار صفتیں یہ ہیں :۔ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت۔مالکیت یوم الدین۔(1) ربوبیت اپنے فیضان کیلئے عدم محض یا مشابہ بالعدم کو چاہتی ہے اور تمام انواع مخلوق کی جاندار ہوں یا غیر جاندار اسی سے پیرایہ وجود پہنتے ہیں۔(2) رحمانیت اپنے فیضان کیلئے صرف عدم کو ہی چاہتی ہے۔یعنی اس عدم محض کو جس کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہوا۔اور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے اور چیزوں سے نہیں۔(3) رحیمیت اپنے فیضان کے لئے موجود ذوالعقل کے منہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔(4) مالکیت یوم الدین اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صرف ان انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کیلئے دامن افلاس پھیلاتے ہیں۔اور پیچ نیچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں۔یہ چارا لہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دعا کی تحریک کرتی ہے اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالک جزا ہے۔کسی کا حق نہیں جو دعویٰ سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔ایام الصلح - رخ جلد 14 صفحہ 242 243)