حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 147 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 147

147 خدا تعالیٰ کی چار صفتیں ہیں جن سے ربوبیت کی پوری شوکت نظر آتی ہے اور کامل طور پر چہرہ اس ذات ابدی از لی کا دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان ہر چہار صفتوں کو سورۃ فاتحہ میں بیان کر کے اپنی ذات کو معبود قرار دینے کے لئے ان لفظوں سے لوگوں کو اقرار کرنے کی ہدایت دی ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ یعنی اے وہ خدا جو ان چار صفتوں سے موصوف ہے ہم خاص تیری ہی پرستش کرتے ہیں کیونکہ تیری ربوبیت تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری رحمانیت بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری رحیمیت بھی تمام عالموں پر محیط ہے۔اور تیری صفت مالکانہ جزا وسزا کی بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیرے اس حسن اور احسان میں بھی کوئی شریک نہیں اس لئے ہم تیری عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں کرتے۔اب واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ میں ان چار صفتوں کو اپنی الوہیت کا مظہر اتم قرار دیا ہے اور اسی لئے صرف اس قدر ذکر پر یہ نتیجہ مرتب کیا ہے کہ ایسا خدا کہ یہ چار صفتیں اپنے اندر رکھتا ہے وہی لائق پرستش ہے۔(نسیم دعوت رخ جلد 19 صفحہ 455-456 حاشیہ) آنحضرت له صفات اربعہ باری تعالیٰ کے مظہر کامل ہیں۔سورۃ فاتحہ میں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ بیان ہوئی ہیں آنحضرت ﷺ ان چاروں صفات کے مظہر کامل تھے۔مثلاً پہلی صفت رب العالمین ہے آنحضرت ﷺ اس کے بھی مظہر ہوئے جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ع 7) جیسے رَبِّ الْعَالَمِين عام ربوبیت کو چاہتا تھا اسی طرح آنحضرت ﷺ کے فیوض و برکات اور آپ کی ہدایت و تبلیغ کل دنیا اور کل عالموں کے لئے قرار پائی۔پھر دوسری صفت رحمن کی ہے آنحضرت ﷺ اس صفت کے بھی کامل مظہر ٹھہرے کیونکہ آپ کے فیوض و برکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں مَا أَسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ آخر (الفرقان : ع 5) پھر آپ رحیمیت کے مظہر ہیں آپ نے اور آپ کے صحابہ نے جو محنتیں اسلام کے لئے کیں اور ان خدمات میں جو تکالیف اٹھائیں وہ ضائع نہیں ہوئیں بلکہ ان کا اجر دیا گیا اور خود رسول اللہ اللہ پر قرآن شریف میں رحیم کا لفظ بولا ہی گیا ہے پھر آپ مالکیت یوم الدین کے مظہر بھی ہیں اس کی کامل تجلی فتح مکہ کے دن ہوئی۔ایسا کامل ظہور اللہ تعالیٰ کی ان صفات اربعہ کا جوام الصفات ہیں اور کسی نبی میں نہیں ہوا۔ثُمَّ أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ اسْمٌ جَامِدٌ لَّا تُدْرَكُ حَقِيقَتُهُ لِأَنَّهُ اسْمُ الذَّاتِ وَالذَّاتُ لَيْسَتْ مِنَ الْمُدْرَكَاتِ وَكُلُّ مَا يُقَالُ فِي مَعْنَاهُ فَهُوَ مِنْ قَبِيلِ الْآبَاطِيْلِ وَالْخُزَعْبِيْلَاتِ فَإِنَّ كُنْهَ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 382-381) الْبَارِى اَرْفَعُ مِنَ الْخَيَالَاتِ وَابْعُدَ مِنَ الْقِيَاسَات - وَإِذَا قُلْتَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ فَمَعْنَاهُ أَنَّ مُحَمَّدًا مَّظْهَرُ صِفَاتِ هَذِهِ الذَّاتِ وَخَلِيفَتُهَا فِي الْكَمَالَاتِ وَ مُتَمِّمُ دَآئِرَةِ الظَّلِيِّةِ وَخَاتَمُ الرِّسَالَاتِ فَحَاصِلُ مَا أَبْصِرُ وَارَى أَنَّ نَبِيَّنَا خَيْرُ الْوَرى - اعجاز مسیح - رخ جلد 18 صفحہ 151 150 )