حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 146
146 صفات اربعہ باری تعالی میں حضرت اقدس کا ذکر مجموعی اعتبار سے بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ صفات اربعہ کا موصوف اللہ تعالیٰ ہے قرآن شریف میں جس قدر صفات اور افعال الہیہ کا ذکر ہے ان سب صفات کا موصوف اسم اللہ ٹھہرایا گیا ہے مثلاً کہا گیا ہے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 146) اب واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ میں ان چار صفتوں کو اپنی الوہیت کا مظہر اتم قرار دیا ہے اور اسی لئے صرف اس قدر ذکر پر یہ نتیجہ مرتب کیا ہے کہ ایسا خدا کہ یہ چار صفتیں اپنے اندر رکھتا ہے وہی لائق پرستش ہے اور در حقیقت یہ صفتیں بہر وجہ کامل ہیں اور ایک دائرہ کے طور پر الوہیت کے تمام لوازم اور شرائط پر محیط ہیں کیونکہ ان صفتوں میں خدا کی ابتدائی صفات کا بھی ذکر ہے اور درمیانی زمانہ کی رحمانیت اور رحیمیت کا بھی ذکر ہے اور پھر آخری زمانہ کی صفت مجازات کا بھی ذکر ہے اور اصولی طور پر کوئی فضل اللہ تعالیٰ کا ان چار صفتوں سے باہر نہیں پس یہ چار صفتیں خدا تعالیٰ کی پوری صورت دکھلاتی ہیں سو در حقیقت استوا علی العرش کے نہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ صفات جب دنیا کو پیدا کر کے ظہور میں آگئیں تو خدا تعالیٰ ان معنوں سے اپنے عرش پر پوری وضع استقامت سے بیٹھ گیا کہ کوئی صفت صفات لازمہ الوہیت سے باہر نہیں رہی اور تمام صفات کی پورے طور پر تجلی ہو گئی جیسا کہ جب اپنے تخت پر بادشاہ بیٹھتا ہے تو تخت نشینی کے وقت اس کی ساری شوکت ظاہر ہوتی ہے۔(نسیم دعوت۔رخ جلد 19 صفحہ 457-455 حاشیہ) صفات اربعہ کی معنوی وضاحت ان آیات سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا جس نے اللہ کے نام سے قرآن میں اپنے تئیں ظاہر کیا۔وہ رب العالمین ہو کر مبدا ہے تمام فیضوں کا اور رحمان ہو کر معطی ہے تمام انعاموں کا۔اور رحیم ہو کر قبول کرنے والا ہے تمام شو دمند دعاؤں اور کوششوں کا اور مالک یوم الدین ہوکر بخشنے والا ہے کوششوں کے تمام آخری ثمرات کا۔ایام الصلح۔رخ جلد 14 صفحہ 246 حاشیہ) صفات اربعہ مظہر الوہیت ہیں خدا تعالیٰ کی ان صفات رب رحمن، رحیم، مالک یوم الدین پر توجہ کی جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ کیسا عجیب خدا ہے پھر جن کا رب ایسا ہو گیا وہ کبھی نامراد او محروم رہ سکتا ہے؟ رب کے لفظ سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ دوسرے عالم میں بھی ربوبیت کام کرتی رہے گی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 192 )