حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 144
144 وَكَانَ قَدَرًا مُـقَـدَّ رًا مِّنَ الْإِبْتِدَاءِ وَوَعْدًا مَّوْقُوتًا جَارِيًا عَلَى الْسُنِ الَّا نُبِيَاءِ ۖ إِنَّ اسْمَ أَحْمَدَ لَا تَتَجَلَّى بِتَجَلَّى تَامٍ فِى أَحَدٍ مِّنَ الْوَارِثِينَ إِلَّا فِي الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ الَّذِي يَأْتِي اللَّهُ بِهِ عِندَ طُلُوعِ يَوْمِ الدِّينِ وَ حَشْرِ الْمُؤْمِنِينَ - وَيَرَى اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ كَالضُّعَفَاءِ وَالْإِسْلَامَ كَصَيِّ نُبِدَ بِالْعَرَاءِ فَيَفْعَلُ لَهُمُ أَفْعَالاً مِّنْ لَّدُنْهُ وَيَنْزِلُ لَهُمْ مِّنَ السَّمَاءِ - فَهُنَاكَ تَكُونُ لَهُ السَّلْطَنَةُ فِي الارْضِ كَمَاهِيَ فِي الْأَفَلَاكِ وَتَهْلِكُ إِلَّا بَاطِيْلُ مِنْ غَيْرِ ضَرْبِ الْأَعْنَاقِ وَتَنْقَطِعُ الْأَسْبَابُ كُلُّهَا وَتُرْجَعُ الْأُمُورُ إِلَى مَالِكِ الأمْلاكِ وَعْدٌ مِّنَ اللهِ حَقٌّ كَمِثْل وَعْدٍ تَمَّ فِي آخِرِ زَمَنِ بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْبُعِثَ فِيْهِمْ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَأَشَاعَ الدِّينَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَقْتُلَ مَنْ عَصَى الرَّبَّ الْجَلِيْلَ - وَكَانَ فِي قَدَرِ اللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَلِيمِ أَنْ يَجْعَلَ اخِرَ هذِهِ السِّلْسِلَةِ كَاخِرِ خُلَفَاءِ الْكَلِيْمِ فَلَاجُلِ ذَالِكَ جَعَلَ خَاتِمَةَ أَمْرِهَا مُسْتَغْنِيَةً مِّنْ نَّصْرِ النَّاصِرِينَ وَمَظْهَرٌ الْحَقِيقَةِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ - ترجمہ: اور ابتدا سے یہی الہی تقدیر اور مقرر وعدہ تھا۔جو انبیاء کی زبانوں پر جاری تھا کہ صفت احمد کی کامل تجلی اس کے وارثوں میں سے مسیح موعود کے سوا کسی پر نہ ہوگی جسے اللہ تعالیٰ ( اس دنیا) میں جزا سزا کا دن طلوع ہونے اور مومنوں کے جمع کئے جانے کے وقت مبعوث فرمائے گا۔اس دن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کمزور اور اسلام کو اس بچے کی طرح پائے گا جسے جنگل میں پھینک دیا گیا ہو۔تب ان کے لیے اپنے ہاں سے بہت سے کام بروئے کار لائے گا اور ان کی خاطر خود آسمان سے اتر آئے گا۔اس وقت زمین پر بھی ویسے ہی اسکی (روحانی) بادشاہت قائم ہو جائے گی جیسا کے آسمانوں پر ہے ( لوگوں کی گردنیں اڑائے بغیر تمام باطل مٹ جائیں گے اور ( کفر کے ) سب ذرائع کٹ جائیں گے اور تمام امور بادشاہوں کے بادشاہ ( خدا تعالیٰ ) کی طرف لوٹائے جائیں گے۔یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اسی وعدہ کی مانند ہے جو بنی اسرائیل کے آخری زمانہ میں پورا ہوا۔جب ان میں حضرت عیسی مبعوث ہوئے اور آپ نے خدا تعالیٰ کے نافرمانوں کو قتل کئے بغیر دین کی اشاعت کی۔عالم الغیب اور عالی مرتبہ خداوند کی تقدیر میں یہی تھا کہ وہ اس امت محمدیہ کے سلسلہ کے آخری حصہ کو حضرت موسیٰ“ کے خلفاء کے آخری حصہ کی طرح بنائے اس لیے اس (امت) کے انجام کو انسانی مددگاروں کی مدد سے مستغنی رکھا اور اُسے مالک یوم الدین کی حقیقت کے اظہار کا ذریعہ بنادیا۔(اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 121-122)