حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 123
123 بسم اللہ کا مقام اور مقصد بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اب یہ آیت جن کامل صداقتوں پر مشتمل ہے ان کو بھی سن لینا چاہیئے سو منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ اصل مطلب اس آیت کے نزول سے یہ ہے کہ تا عاجز اور بے خبر بندوں کو اس نکتۂ معرفت کی تعلیم کی جائے کہ ذات واجب الوجود کا اسم اعظم جو اللہ ہے کہ جو اصطلاح قرآنی ربانی کے رو سے ذات مستجمع جمیع صفات کا ملہ اور منزہ عن جمیع رذائل اور معبود برحق اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض پر بولا جاتا ہے اس اسم اعظم کی بہت سی صفات میں سے جو دو صفتیں بسم اللہ میں بیان کی گئی ہیں یعنی صفت رحمانیت و رحیمیت انہیں دو صفتوں کے تقاضا سے کلام الہی کا نزول اور اس کے انوار و برکات کا صدور ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا کے پاک کلام کا دنیا میں اترنا اور بندوں کو اس سے مطلع کیا جانا یہ صفت رحمانیت کا تقاضا ہے کیونکہ صفت رحمانیت کی کیفیت ( جیسا کہ آگے بھی تفصیل سے لکھا جائے گا ) یہ ہے کہ وہ صفت بغیر سبقت عمل کسی عامل کے محض جود اور بخشش الہی کے جوش سے ظہور میں آتی ہے جیسا خدا نے سورج اور چاند اور پانی اور ہوا وغیرہ کو بندوں کی بھلائی کیلئے پیدا کیا ہے یہ تمام جو داور بخشش صفت رحمانیت کے رو سے ہے اور کوئی شخص دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ چیزیں میرے کسی عمل کی پاداش میں بنائی گئی ہیں اسی طرح خدا کا کلام بھی کہ جو بندوں کی اصلاح اور راہ نمائی کے لئے اترا وہ بھی اس صفت کے رو سے اترا ہے اور کوئی ایسا متنفس نہیں کہ یہ دعوی کر سکے کہ میرے کسی عمل یا مجاہدہ یا کسی پاک باطنی کے اجر میں خدا کا پاک کلام کہ جو اس کی شریعت پر مشتمل ہے نازل ہوا ہے۔(براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 415 حاشیہ نمبر (11)