حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 79 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 79

79 حکم و عدل کی آمد کی ضرورت جب مدت دراز گذر جاتی ہے اور غلطیاں پڑ جاتی ہیں تو خدا ایک حکم مقر رکرتا ہے جو ان غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ حضرت مسیح کے سات سو برس بعد آئے اس وقت ساتویں صدی میں ضرورت پڑی تو کیا اب چودھویں صدی میں بھی ضرورت نہ پڑتی۔اور پھر جس حال میں کہ ایک ملہم ایک صحیح حدیث کو وضعی اور وضعی کو صحیح بذریعہ الہام قرار دے سکتا ہے اور یہ اصول ان لوگوں کا مسلم ہے تو پھر حکم کو کیوں اختیار نہیں ہے ؟ ایک حدیث کیا اگر وہ لا کھ حدیث بھی پیش کریں تو ان کی پیش کب چل سکتی ہے؟ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 276/277) اس دین میں بہت سے اسرار ایسے تھے کہ درمیانی زمانہ میں پوشیدہ ہو گئے تھے۔مگر مسیح موعود کے وقت میں ان غلطیوں کا کھل جانا ضروری تھا کیونکہ وہ حکم ہو کر آیا۔اگر درمیانی زمانہ میں یہ غلطیاں نہ پڑتیں تو پھر مسیح موعود کا آنا فضول اور انتظار کرنا بھی فضول تھا۔کیونکہ مسیح موعود مجد رہے اور مجد وغلطیوں کی اصلاح کے لئے ہی آیا کرتے ہیں۔وہ جس کا نام جناب رسول اللہ ﷺ نے حکم رکھا ہے۔وہ کس بات کا حکم ہے اگر کوئی اصلاح اس کے ہاتھ سے نہ ہو۔یہی سچ ہے۔مبارک وہ جو قبول کریں اور خدا سے ڈریں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 56) حکم و عدل کا کام یہی حال حکم کے آنے پر ہونا چاہیے۔وہ خود ساختہ اور موضوع باتوں کو رد کر دے گا اور سچ کو لے گا۔یہی وجہ ہے اس کا نام حکم رکھا گیا ہے۔اسی لئے آثار میں آیا ہے کہ اس پر کفر کا فتویٰ دیا جاوے گا کیونکہ وہ جس فرقہ کی باتوں کو رد کرے گا وہی اس پر کفر کا فتویٰ دے گا۔یہاں تک کہا ہے کہ مسیح موعود کے نزول کے وقت ہر ایک شخص اٹھ کر کھڑا ہوگا اور منبر پر چڑھ کر کہے گا۔إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ غَيَّرَدِيْنَنَا۔اس شخص نے ہمارے دین کو بدل دیا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت اس امر کا ہوگا کہ وہ بہت سی باتوں کو رد کر دے گا جیسا کہ اس کا منصب اس کو اجازت دے گا۔غرض اس بات کو سرسری نظر سے ہرگز نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ غور کرنا چاہیے کہ حکم عدل کا آنا اور اس کا نام دلالت کرتا ہے کہ وہ اختلاف کے وقت آئے گا اور اس اختلاف کو مٹائے گا۔ایک کورد کر دے گا اور اندرونی غلطیوں کی اصلاح کریگا۔وہ اپنے نور فراست اور خدا تعالی کے اعلام والہام سے بعض ڈھیروں کے ڈھیر جلا دے گا اور پکی اور محکم باتیں رکھ لے گا۔جب یہ مسلم امر ہے۔تو پھر مجھ سے یہ امید کیوں کی جاتی ہے کہ میں اُن کی ہر بات مان لوں قطع نظر اس کہ وہ بات غلط اور بیہودہ ہے اگر میں ان کا سارا رطب و یابس مان لوں تو پھر میں حکم کیسے ٹھہر سکتا ہوں؟ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 21-22)