تحقیقِ عارفانہ — Page 60
۶۰ دوسرے طریقہ میں عبد الرزاق بن ہمام ہے جو شیعہ تھا۔قَالَ النَّسَا لِي فِيْهِ نَظَرُ قَالَ العباس العبري۔۔۔۔إِنَّهُ لَكَذَّابٌ وَالوُا قَدِى أصدق مِنه یعنی نسائی کے نزدیک وہ قابل اعتبار نہیں عباس عنبری کہتے ہیں وہ کذاب ہے اور واقدی سے بھی زیادہ جھوٹا تھا۔یہ روایت عبد الرزاق بن ہمام نے معمر سے لی ہے اور میزان میں لکھا ہے قال الدار قُطنِى يُخطِئُى عَلَى مَعْمَرَ فِي أَحَادِيثُ۔۔۔۔۔قَالَ ابْنَ عُيَيْنَةِ أَخَافُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا۔کہ یہ ان روایات میں غلطی کرتا ہے جو معمر سے لینا بیان کرتا تھا ابن عینیہ کہتے ہیں کہ مجھے خوف ہے کہ یہ راوی قرآن مجید کی آیت ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الحَيَواة الدُّنْيَا ـ (الكهف : ۱۰۵) کا مصداق تھا۔(وہ لوگ جن کی کوشش دنیاوی زندگی میں کھو گئی) معمر بن راشد کے متعلق یحیی ابن معین کہتے ہیں ضعیف تھا (میزان الاعتدال جلد ۳ صفحہ ۱۸۸) اور ائن سعد کہتے ہیں کہ شیعہ تھا۔اور ابو حاتم کہتے ہیں بصرہ میں اس نے جو روایات بیان کی ہیں ان میں غلط روایات بھی ہیں۔تهذیب التهذیب جلد ا صفحه ۲۴۴) ابو داود کی روایت میں تو مان اور ابو قلابہ بھی ہیں جن کا ضعیف ہونا پہلے بیان ہو چکا ہے۔ان دونوں کے علاوہ سلیمان من حرب اور محمد بن عیسی بھی ضعیف ہیں۔سلیمان بن حرب کے متعلق خود ابو داؤد کہتے ہیں یہ راوی ایک حدیث کو پہلے ایک طرح بیان کرتا تھا۔لیکن جب کبھی دوسری دفعہ اس حدیث کو بیان کرتا تو پہلے سے مختلف ہوتی تھی۔اور خطیب کہتے ہیں کہ یہ شخص روایات کے الفاظ میں تبدیلی کر دیا کر تا تھا۔تهذیب التهذیب جلد ۴ صفحه ۱۸۰) محمد بن عیسی کے متعلق ابو داؤد کہتے ہیں كَانَ رَبُّمَا يُدلس (تذيب