تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 690 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 690

۶۹۰ جائیں گے یا آپ سے کنارہ کش ہو جائینگے ؟ (یعنی انکی گالیوں اور ان کے گندے اعتراضوں کو سنکر ہم آنحضرت ﷺ کا دامن جو ہمارے محبوب ہیں چھوڑ نہیں سکتے) پس ان اشعار کا کوئی تعلق مسلمانوں سے نہیں بلکہ ان کا تعلق ان عیسائی پادریوں اور ان کی مبلغہ عورتوں سے ہے جو آنحضرت ﷺ کے خلاف گند بکتے تھے۔سچ بات یہی ہے کہ جن خاص شخصوں کے متعلق حضرت اقدس نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں وہ وہی تھے جو آپ کو یا آنحضرت ﷺ کو گالیاں دینے والے تھے اور گالیاں دینے سے باز نہیں آتے تھے۔ایسے لوگوں کے متعلق حضرت اقدس کے استعمال کردہ الفاظ بالکل بر محل اور ضروری تھے تا انہیں محسوس ہو کہ گندہ دہنی سے انہیں اجتناب کرنا چاہیئے۔ورنہ سخت الفاظ کے جواب میں انہیں بھی سخت الفاظ سننے پڑیں گے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے بعض مخالفین کی گالیوں کو کئی دفعہ نظر انداز بھی کیا۔اور آپ کی مجلس میں تو لوگ آپ کے منہ پر بھی سخت سے سخت گالیاں دے جاتے تھے اور خطوط میں بھی گندی گالیاں لکھتے رہتے تھے مگر آپ خاموشی سے انہیں برداشت کر لیتے تھے اور کچھ جواب نہیں دیتے تھے۔برق صاحب نے حرف محرمانہ کے صفحہ ۴۲۳ پر " الہامات مرزا کے حاشیہ صفحه ۱۲۲ کے حوالہ سے حاملین رقعہ کی جو روایت نقل کی ہے یہ روایت چونکہ دشمنان احمدیت کی ہے اس لئے ہم اسے دروغ بے فروغ سمجھتے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کتنی نرم تھی اور آپ کا اپنے دشمنوں سے بر تاؤ کیسا شریفانہ تھا۔مگر بد گو دشمنوں کے لئے انہیں حرام کار ، زناکار اور سانپ کے بچ کے الفاظ بھی استعمال کرنے پڑے ہیں۔حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے :- " تَكُونُ فِى أُمَّتِي فَزَعَةُ فَيُصِيرُ النَّاسُ إِلَى عُلَمَاءِ هِم فَإِذَاهُمْ قِرَدَةً وخنازير ،، (کنز العمال جلد ۷ صفحہ ۹۰)