تحقیقِ عارفانہ — Page 679
۶۷۹ باب دوازد هم برق صاحب کے آخری حملہ کارڈ برق صاحب نے اپنی کتاب کے آخری بارھویں باب میں اپنا آخری حملہ یہ کیا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے مخالفین کے متعلق تلخ نوائی اور بد زبانی سے کام لیا ہے جو ایک رسول کی شان کے منافی ہے۔گویا حضرت مسیح موعود کے دعوئی کے خلاف ان کا یہ آخری تیر ہے جو انہوں نے اپنے ترکش سے نکالا ہے۔جناب برق صاحب نے پہلے تو قرآن کریم کی یہ ہدایت بیان فرمائی ہے کہ مدافعت احسن طریق سے ہونی چاہیئے۔پھر طائف میں آنحضرت ﷺ سے بد سلوکی پر آپکی مخالفین کے حق میں دعا اللهمَّ اهْدِ قَوْمِي إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ کا ذکر کیا ہے پھر فتح مکہ کے موقعہ پر اہل مکہ کو آنحضرت ﷺ کا لا تقریب عَلَيْكُمْ کہہ کر عام معافی دینے کا ذکر کیا ہے۔اور اس کے بعد جب انہیں یہ احساس ہوا کہ قرآن وحدیث میں بھی تو مخالفوں کے متعلق سخت الفاظ آئے ہیں اس لئے انہوں نے اطور پیش بیدی لکھا ہے :- " قرآن و حدیث میں اول تا آخر کہیں بد کلامی یا گالی موجود نہیں۔حضور نے زندگی بھر کسی فرد کی توہین و تحقیر نہیں کی کسی کا مضحکہ نہیں اڑایا۔کسی کو دجال یا سور نہیں کہا۔اس میں کلام نہیں کہ قرآن عظیم نے بدکاروں کو فاسق اور کا فر قرار دیا تھا لیکن یہ گالی نہیں تھی بلکہ خالص حقیقت بیانی تھی۔فاسق کے معنے ہیں بد چلن۔اور کافر کے معنے ہیں قانون شکن۔اگر ایک شرالی۔زانی۔مفسد۔چور۔خائن اور منافق کو