تحقیقِ عارفانہ — Page 678
مندرجہ بالا پچپیش آیات میں خدا تعالیٰ کے عام اسلوب زبان کو ترک کرنے میں ضرور خاص حکمتیں ہیں جنہیں راکون فی العلم ہی سمجھ سکتے ہیں۔اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کی بعض حکمتوں سے واقف ہیں اور قرآن مجید پر عیسائیوں کے اس قسم کے اعتراضات کو لغو سمجھتے ہیں۔برق صاحب کے حضرت مسیح موعود کی عبارتوں پر اعتراض بھی بالعموم اسی نوعیت کے ہیں جس طرح عیسائی لوگ قرآن مجید پر اس قسم کے اعتراضات معاندانہ روح لے کر کرتے ہیں اصل حقیقت کے سمجھنے سے انہیں کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔اسی قسم کی معاندانہ روح کا اپنے اعتراضات میں جناب برق صاحب نے مظاہرہ فرمایا ہے۔برق صاحب کا یہ کہنا کہ دشمن آپ کی غلطیوں پر ہنس رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔انبیاء اور مامورین کی باتوں پر دشمنوں کی جنسی ان کی اپنی جہالت اور حماقت کی وجہ سے ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یا حسرةً على العباد مايا تيهم من رسول الا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وُنَ۔بتائیے کو نسار سول منکروں کی استہزاء سے چاہے۔فَا عَتَبِرُوايَا اولی الابصار -