تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 677 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 677

766 استعمال کیا گیا ہے۔١٩ - وَأَسَرُّ والنَّحْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا۔(الانبياء : ۴) اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ خلاف قاعدہ فعل کو جمع لایا گیا ہے حالانکہ فاعل سے پہلے فعل مفرد استعمال ہوتا ہے۔-۲۰ - ثُمَّ عَمُوا وَصَمُّوا كَثِيرٌ مِنْهُمْ - (المائدة : ۷۲) اس آیت میں بھی اوپر کے قاعدہ کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے کثیر فاعل سے پہلے عموا وصموا دو فعل جمع لائے گئے ہیں۔-٢١ إن تتوباً إلى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا - چاہیئے۔(التحريم : ۵) آنحضرت ﷺ کی دو بیویوں کا ذکر ہے اس لحاظ سے بظاہر قلبا كما أنا ۲۲ - إِذَارَأَوْا تِجَارَةً أَوْلَهُوَا إِنْفَضُّوا إِلَيْهَا۔( الجمعة : ١٢) تجارة اور لھو دو چیزیں ہیں ان دونوں کی مناسبت سے الیھا کی بجائے الیھما چاہیئے۔٢٣ - وَالَّذِينَ يَكْبَرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ - (التوبة : ٣٤) ذهب اور فضہ دو چیزیں ہیں ان کی مناسبت سے بظاہر يُنفِقُونَهُمَا چاہیئے تھا۔۲۴- فَاحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا۔(ir:3) بلدة مؤنث ہے مگر اس کی صفت میتآمد کر لائی گئی ہے۔عام قاعدہ کے لحاظ سے مینہ چاہیے۔۲۵ - السَّمَاءُ مُنْفَطِرُ به - (المزمل : ١٩) السماء مؤنث ہے اس کی خبر منفطر مذکر لائی گئی ہے عام قاعدہ کے لحاظ سے منفطرہ چاہیے۔