تحقیقِ عارفانہ — Page 673
ہے۔۶۷۳ برق صاحب نے اعجاز السبح کی تحریر پر صرف پندرہ اعتراضات کئے تھے جن کے جوابات سے ہم خدا کے فضل سے فارغ ہو چکے ہیں۔اس مضمون کو ختم کرتے ہوئے برق صاحب نے یہ نوٹ دیا ہے :- اس تفسیر میں اس قسم کی کم و بیش ایک سواغلاط موجود ہیں۔حقیقتہ تاریخ رسالت کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ اللہ نے مسیح موعود پر چار زبانوں پر الہامات اتارے اور ہر زبان میں درجنوں غلطیاں کیں۔یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ دشمن اسکی غلطیوں پر ہنس رہے ہیں۔وہ آخر تک اپنی ہٹ پر قائم رہا اور و قتافو قناغلط الہامات نازل کرتارہا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۱۵) قارئین کرام ابرق صاحب کی پیش کردہ پندرہ مزعومہ غلطیوں اور ان کے متعلق ہمارا جواب ملاخطہ فرما چکے ہیں۔ہمارے جوابات سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ ان کی نکتہ چینی سراسر باطل ہے اور انکی بد ذوقی کم فہمی اور عربی علم ادب میں مفلس ہونے کا ثبوت ہے۔برق صاحب کی وہ سو غلطیاں جن کا وہ اس نوٹ میں ذکر فرمارہے ہیں یہی حال ہو گا یعنی وہ کم ضمی سے انہیں اغلاط سمجھ رہے ہونگے۔یہ کہنا ان کا دروغ بے فروغ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے چار زبانوں میں الہامات کے اندر خدا تعالیٰ نے درجنوں غلطیاں کی ہیں۔خدا کا کلام تو غلطیوں سے پاک ہی ہوتا ہے۔اور اس کے الہامات پر دشمنوں کی ہنسی در حقیقت اپنی ہی نادانی اور جہالت کا ثبوت ہوتا ہے۔قرآن شریف کی آیات پر عیسائیوں کی نکتہ چینی کا نمونہ جس قسم کی مزعومہ اولی غلطیاں جناب برق صاحب نے ذکر کی ہیں اسی قسم کی غلطیاں نادان عیسائیوں نے قرآن مجید کے الہامات کے متعلق بھی بیان کی ہیں جو