تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 672 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 672

۶۷۲ عند الاحْتِصَارِ والغَرْغَرَةِ وثبات عند الرحْلَةِ وَتَرْكِ الدُّنْيَا الدَنِيَّةِ - أَتَظُنُّ أَنْ يَكُونَ الغَيرُ كَمِثْل هَذِهِ الضِئَةِ الكَرِيمَةِ ترجمہ : یعنی وہ انبیاء ورسل اللہ کا نور ہیں ان کے وسیلہ سے دلوں کو نور ملتا ہے اور گناہوں کے زہروں کے لئے تریاق ملتا ہے اور موت اور نزع کی حالت میں تسلی ملتی ہے اور حقیر دنیا کو چھوڑنے اور کوچ کے وقت ثابت قدمی حاصل ہوتی ہے اس کے بعد فرماتے ہیں : - کیا تو گمان کرتا ہے کہ الغیر (انبیاء کا غیر ) اس بزرگ گروہ کی طرح ہو سکتا ہے۔اور اس کے بعد فرماتے ہیں : - كلا والذى اخرجَ العَدْقَ مِنَ الجريمة اس خدا کی قسم جس نے تنے سے شاخدار شنی نکالی ہے ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا۔جناب برق صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ غیر پر الف لام نہیں آسکتا مگر ہم انہیں الغبر کے استعمال کی ایک مثال دیتے ہیں جس سے ان پر اپنی علمی حیثیت خوب روشن ہو جائے گی۔سینئے ”المنجد میں الغیر کا اسی طرح استعمال موجود ہے جس طرح زیر بحث فقرہ میں حضرت اقدس نے الغیر کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔المنجد میں غار يغار کے تحت لکھا ہے غار الرجُل على امرته مِنْ فُلان وهى عليه من جُلا نَةٍ اور آگے اس کے معنے لکھے ہیں :- أنف من الحمية وكرة شركة الغير في حقه بها وهي كذالك المنجد ایڈیشن ۷ ۱ صفحه ۵۶۳ کالم ۳) یعنی مرد نے حمیت کی وجہ سے نفرت کی اور اپنے حق میں اپنی دیوی میں الغیر (غیر مرد) کی شرکت کو نا پسند کیا۔اور اسی طرح عورت نے حمیت کی وجہ سے نفرت کی اور اپنے حق میں اپنے خاوند میں الغبر (کسی غیر عورت) کی شرکت کو نا پسند کیا۔کیوں برق صاحب! تسلی ہوئی یا نہیں کہ عربی میں الغیر بھی استعمال ہو تا