تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 636 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 636

۶۳۶ ہے۔طرفہ عین کا لفظ فقظ قلیل ترین وقت کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔خواہ اس وقت کا گذر نا کسی ہی کام کے لئے ہو۔صرف سرعت رفتار ظاہر کرنے کے لئے ہی یہ لفظ استعمال نہیں ہو تا۔مثلاً کہہ سکتے ہیں لَمْ يُبْعَدَ مِنى الطرفَة العَيْن۔وہ مجھے سے ایک لخطے کے لئے بھی دور نہیں ہوا۔خطبہ الہامیہ کی عبارت ولا يَبعُدُ مِنِّي طرفَةً عين رَحْمَتُهُ کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے :- اور اس کی رحمت ایک لمحہ بھی مجھ کو نہیں چھوڑتی۔“ پس یہ اعتراض بھی عرفی علم ادب سے واقفی کا ثبوت ہے۔لغت عربی میں طرفہ کے معنے لمحہ ہی کئے گئے ہیں۔ملاحظہ ہو "المنجد “۔پس یہ لفظ ثمانیہ (سیکنڈ) کی طرح وقت کے اقل ترین حصہ کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔سرعت رفتار سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔۔١٠ : - إِنَّ اِنْكَارِی حَسَرَاتٌ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُو ابِي وَ إِنَّ إِقْرَارِى بَرَكَاتُ لِلَّذِينَ يتركُونَ الحَسَدَ وَيُؤْمِنُونَ اس عبارت پر ہی اعتراض کیا گیا ہے کہ :-۔خطبه الهامیه صفحه ۱۱۳ طبع اول) "میرا انکار اور میر اقرار پنجابی عربی ہے۔میرے ”اقرار و انکار کا مفہوم یہ ہے کہ جناب مرزا صاحب کسی چیز کا انکار اور کسی کا اقرار کر بیٹھے ہیں۔اور اب فرمار ہے ہیں کہ میرا اقرار و انکار علاوہ ازیں انکار مفرد ہے اور حسرات جمع اسی طرح اقرار مفرد ہے۔اور برکات جمع اسم و خبر میں تطابق ضروری ہے۔اس لئے حسرة اور برکۃ صحیح ہے۔اور حسرات برکات غلط۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۰۹) الجواب انکاری و اقراری کے الفاظ ہر گز پنجابی عربی نہیں بلکہ یہ دونوں ٹھیٹھ عربی