تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 52 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 52

۵۲ ہے اور مشرح بن ہامان کے متعلق لکھا ہے :- قَالَ ابْنُ حيّان فِى الضُّعَفَاءِ لَايُتَابَعُ عَلَيْهَا فَالصَّوَاب تَرُكُ مَا انْفَرَادَ به قَالَ ابْنُ دَاوُدَ إِنَّهُ كَانَ فِى جَيْشِ الْحَجَّاجِ الذِينَ حَاصَرَوُا ابْنَ الزُّبَيْرِ وَرَمُوا ،، الكعبة بالمنحنييق " (تهذيب التهذيب جلدا صفحه ۱۵۵ و میزان الاعتدال جلد ۲ صفحہ ۴۷۷ و جلد ۳ صفحه ۱۷۲) یعنی ابن حیان نے اسے ضعیف راویوں میں قرار دیا ہے اسکی روایات کا اعتبار نہیں کیا جاتا اور صحیح بات یہ کہ جس روایت میں یہ اکیلا ہی راوی ہو وہ روایت چھوڑ دینا ہی راہ صواب ہے ابن داود کہتے ہیں کہ یہ راوی حجاج کے اس لشکر میں شامل تھا جس نے حضرت عبد اللہ بن زبیر کا محاصرہ کیا اور منجنیق سے کعبہ پر پتھراؤ کیا۔پس یہ روایت غریب بھی ہے اور ضعیف یعنی قابل ترک بھی۔کیونکہ مشرح من باعان کی منفر د روایات قابل قبول نہیں ہو تیں۔اسی طرح اس حدیث کا ایک راوی بکر بن عمر والمعافری بھی ہے اس کے متعلق تهذیب التہذیب جلد ا صفحہ ۴۸۶ اور میزان الاعدال حیدر آبادی جلد ۱ صفحه ۱۶۱ میں لکھا ہے يُنظرفی آمرہ یعنی اس کی روایت کو مشکوک سمجھا جاتا ہے۔پس یہ روایت اس لحاظ سے بھی ضعیف اور نا قابل حجت ہے۔اس حدیث کی دوسری روایت میں ہے لَو لَمْ أبْعَثُ لَبُعِثْت يَاعُمَرُ (مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد ۵ صفحه ۵۳۹ و حاشیه مشکوۃ مجتبائی باب مناقب) یہ حدیث صحیح ہے۔دیکھئے تعقبات سیوطی صفحہ ۲۷۱۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمر اگر میں مبعوث نہ کیا جاتا تو تو مبعوث کیا جاتا۔ایک دوسری روایت اس کے بامعنی لو لم أبعث لبعث عُمَرُ فيكم كنوز الحقائق صفحہ ۱۰۳ جلد ۲ صفحہ ۱۵۱) بھی وارد ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ