تحقیقِ عارفانہ — Page 614
۶۱۴ میم کی زبر سے بھی مستقل رہائش گاہ کے لئے آجاتا ہے۔دیکھئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔سے نکالا۔فاخر حتهم من حلب وعيون وكنُورٍ ومَقَامٍ كَرِيم (الشعراء ٥٩) ہم نے فرعون کو اس کے لشکر کے ساتھ باغوں چشموں اور باعزت رہائش گاہ گویا ایک شہر اور بستی کو مقام قرار دیا ہے۔جو مستقل رہائش گاہ ہوتی ہے۔پس اس آیت میں مقام مفتوح الہیم کو بھی مستقل رہائش گاہ کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔لیکن دوزخ کے متعلق سورۃ الفرقان کے آخری رکورم میں آیا ہے۔إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرٌاً ومُقَامَاً - (الفرقان : ۶۷) کہ وہ بری قرار گاہ اور مقام ہے اور جنت کے متعلق اسی جگہ آیا ہے۔حَسُنَتْ مُسْتَقَرًا وَّمُقَامَاً وہ اچھی قرار گاہ اور مقام ہے۔(الفرقان : ۷۷ ) ان دونوں آیتوں میں مقام مضموم الیہم کا لفظ مستقل، ہائش گاہ کے معنے دے رہا ہے۔دو پاؤں کی درمیانی جگہ یا سفر میں عارضی رہائش گاہ کے معنے نہیں دے رہا۔پس زیرِ بحث الهام الہی میں المقام میم کی پیش سے پڑھیں یا المقام میم کی زبر ہے۔یہ لفظ قادیان کی بستی کے لئے مستقل رہائش گاہ کے معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے برق صاحب کا یہ لکھنا کہ۔موجود ہے۔" اصطلاحاً عرب کسی بستی کو مقام نہیں کہتے اس کے لئے قریہ کا لفظ (حرف محرمانه صفحه ۳۹۵) یہ بات بھی برق صاحب کے عربی علم ادب میں افلاس کا ہی ثبوت ہے دیکھئے عرب کا ایک مشہور اور مسلم شاعر کہتا ہے :-