تحقیقِ عارفانہ — Page 583
۵۸۳ پھر بہار آئی تو آئے شیخ کے آنے کے دن“ یہ بھی الہامی زبان ہے۔اور برق صاحب کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ صحیح کا لفظ اردو زبان میں استعمال نہیں ہوتا۔حالانکہ تمام عربی اسمائے نکرہ اردو میں استعمال ہو سکتے ہیں۔اس پر کوئی پریدی نہیں اور پھر خدا تعالے کے لئے پاندی تو عجیب بات ہے اور برق صاحب کا یہ کہنا کہ برف باری سردیوں میں ہوتی ہے نہ کہ بہار میں۔ایک عام قاعدہ تو ضرور ہے۔مگر اس الہام میں موسم بیمار کے ایام میں ایک غیر معمولی نشان کے طور پر برف باری کی پیشگوئی کی گئی تھی۔یعنی یہ بتایا گیا تھا کہ آئندہ موسم بہار میں برفباری کے دن آجائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔اس موقعہ پر برق صاحب کا اپنی ساری اس تنقید کے بعد خود یہ لکھ دیا کہ :- " ممکن ہے کہ کسی وجہ سے فضائیں سرد ہو جائیں اور بہار میں بھی ایک آدھ دن برف برسنے لگے۔“ یہ لکھنا کہ :- (حرف محرمانه صفحه ۳۷۲) اعتراض کر کے خود اُس کو واپس لینے کے مترادف ہے۔ہاں برق صاحب کا "برف آتی نہیں بلکہ برستی ہے۔“ ایک فضول اعتراض ہے۔کیوں کہ اس جگہ برف آنے کا ذکر نہیں برف کے دن آنے کا ذکر ہے۔اور دن آیا ہی کرتے ہیں۔ہر سا نہیں کرتے۔پس ان کا یہ فقرہ کہ اس الہام کی زبان خلاف محاورہ اور مضمون خلاف حقیقت ہے۔( حرف محرمانہ صفحہ ۳۷۲) محض ژاژخائی ہے۔پھر برق صاحب ذیل کی الہامی عبارت جو دراصل نثر ہے شعر کی صورت میں یوں نقل کرتے ہیں :-