تحقیقِ عارفانہ — Page 563
۵۶۳ علم استند لالی و فکری ہے نہ کہ مخبر اشتباہ۔چوتھا فقرہ برق صاحب نے یوں لکھا ہے :- ” میری اس تجویز کے موافق جو میں نے دینے چندہ کے لئے رسالہ مذکور میں لکھی ہے۔66 (ازالہ اوہام صفحہ ۴۷۴) الجواب دو یہ عبارت ازالہ اوہام کے صفحہ ۴۷۴ کی بجائے صفحہ ۷۴ ۷ طبع اول پر بہت تلاش کے بعد ملی ہے۔اصل عبارت میں دینے چندہ " کی بجائے دینی چندہ " لکھا ہے اور مراد اس سے مذہبی امور کے لئے چندہ ہے جیسا کہ سیاق کلام سے بھی ظاہر ہے۔نمبر ۲۔اس نمبر میں برق صاحب نے حضرت اقدس کی ذیل کی عبارتوں کو ثقیل الفاظ پر مشتمل قرار دیا ہے۔نمبر1: ”جب ہم اپنے نفس سے لکھی فنا ہو کر درد مند دل کے ساتھ لایڈرک وجود میں ایک گہرا غوطہ مارتے ہیں تو ہماری بشریت الوہیت کے دربار میں پڑنے سے عند العود کچھ آثار و انوار اس عالم کے ساتھ لے آتی ہے۔" (ازالہ اوہام صفحہ ۴۳۱ طبع اول) نمبر ۲:- ان کی اخلاقی حالت ایک ایسے اعلیٰ درجہ کی کی جاتی ہے جو تکبر اور نخوت اور کمینگی اور خود پسندی اور ریاکاری اور حسد اور محل اور تنگ دلی سب دور کی جاتی ہے۔اور انشراح صدر اور بعاشت عطاء کی جاتی ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۴۴۵ طبع اول)