تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 545 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 545

۵۴۵ سے نا آشنا تھے اور بائبل کے تراجم افراد نے نہیں بلکہ عبرانی علماء کی پوری جماعتوں نے برسوں میں کئے تھے ان لوگوں نے ہر ہر لفظ کی پوری چھان بین کی تھی ان کے ترجمہ کو مسترد کرنے کے لئے زبر دست لغوی دلائل کی ضرورت ہے جو مرزا صاحب نے پیش نہیں فرمائے۔اور بغیر از سند نیات همہ پیش کر دیا ظاہر ہے کہ ایسا تر جمہ قابل قبول نہیں ہو سکتا الجواب (حرف محرمانه صفحه ۳۴۲) حضرت اقدس نے زیرحث ترجمہ کی صحت کے لئے اسی جگہ زیر دست لغوی شواہد بھی پیش فرمائے ہیں جن کی طرف سے جناب برق صاحب نے اپنی آنکھیں مند کر رکھی ہیں۔زیر بحث لفظ "ومیت " ہے۔جو اصل میں صیغہ ماضی ہے اور اس کے معنے ہیں مر گیا یا مرا ہوا۔حضرت اقدس نے اس جگہ کئی شواہد بائبل سے پیش کئے ہیں جن میں لفظ میت موت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے نہ کہ قتل کے معنوں میں چنانچہ پیدائش باب ۵۰ آیت ۱۵ میں حضرت یوسف کے والد کے متعلق "میت ابيهم" کے الفاظ ہیں۔اور ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب قتل نہیں ہوئے تھے پھر استثناء باب ۱۰ آیت ۶ کا حوالہ دیا ہے جس میں میت ھارون" کے الفاظ آئے ہیں کہ ہارون نے وفات پائی۔ہارون علیہ السلام بھی قتل نہیں ہوئے تھے پھر ا سلاطین باب ۳ آیت ۲۱ کا حوالہ دیا ہے جس میں ایک بچے کے متعلق آیا ہے اس کی ماں کہتی ہے :- ” جب میں صبح کو اٹھی کہ بچے کو دودھ دول و هین میت اور دیکھو وہ مرا پڑا " پھر ا۔تواریخ باب ۱۰ آیت ۵ کا حوالہ دیا ہے میت شادول کہ شادول مر گیا ہے۔اسی طرح ۲۔سلاطین ہ میں میت اتاہ کا ترجمہ ” مر جائے گا کیا گیا ۲۔۱۵ ۱۴ ہے۔اور یہ آیت حزقیاہ کے متعلق ہے اور اسی طرح خروج ا سلاطین۔اور