تحقیقِ عارفانہ — Page 534
۵۳۴ کیونکہ خدا تعالیٰ نے کیپٹن ڈکس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کو اپنے خاص تصرف سے یہ احساس و یقین دلا دیا کہ یہ مقدمہ سراسر جھوٹا ہے۔اور حضرت مرزا صاحب بے گناہ ہیں۔جس طرح پیلا طوس رومی حاکم کو خدا تعالیٰ نے یہ یقین دلا دیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بے گناہ ہیں۔اور یہودیوں نے ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ کھڑا کیا ہے۔پس اس بات میں کیپٹن ڈگلس کو الہام الہی میں اسی مشابہت کی بنا پر پلا طوس قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ مسیح محمدی کا مقدمہ اس کی عدالت میں اسی طرح پیش ہوا جس طرح پہلے مسیح کا مقدمہ پیلاطوس کی عدالت میں پیش ہوا تھا۔اور جس طرح پیلا طوس پر سبیح کا بے گناہ ہونا ثابت ہو گیا اسی طرح کیپٹن ڈگلس پر مسیح موعود کا بے گناہ ہونا ثابت ہو گیا۔گو یہ مقدمہ نہائت ہو شیاری سے چلایا گیا تھا مگر خدا تعالی نے اس حاکم پر کھول دیا کہ عبد الحمید گواہ اپنے بیان میں جھوٹا ہے۔اور مولوی محمد حسین بٹالوی بھی دشمنی سے گواہی دینے کے لئے آیا ہے۔اور پادریوں نے مرزا صاحب کی دشمنی میں یہ مقدمہ کھڑا کیا ہے۔چنانچہ اس نے یہ تدبیر کی کہ عبد الحمید گواہ کو پادریوں کے قبضہ سے نکلوا کر پولیس کے حوالے کر دیا۔جس پر عبدالحمید نے پادریوں کے دباؤ سے نکل آنے پر عدالت میں یہ بیان دے دیا۔کہ عیسائیوں نے اس سے محض جھوٹا بیان دلوایا ہے۔اس پر حاکم نے حضرت مسیح موعود کو نہائت عزت سے بری کر دیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں :- پر مسیحائن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہو تا نام احمد جس پہ میر اسب مدار“ دیکھئے یہ تین رموز پر مشتمل الهام جو دعویٰ مسیح موعود سے بھی کئی سال پہلے نازل ہوا۔کس طرح صفائی سے پورا ہوا ہے۔اور واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے۔کہ