تحقیقِ عارفانہ — Page 500
مرتبہ پر ہے جو ہارون کا موسیٰ سے تھا۔“ (دیلمی باب الیاء صفحه ۲۱۴) وو ایک دوسری حدیث میں ہے : - " یا عَلى أَنتَ بِمَنْزِلَةِ الْكَعْبَةِ “ ” یعنی اے علی تو بمنزلہ کعبہ کے ہے۔“ (دیلمی باب الیاء صفحه ۲۱۴) حضرت جنید حضرت ابو یزید کی شان میں فرماتے ہیں : - ابُو يَزِيدٍ مِنَّا بِمَنْزِلَةِ جِبْرِيلَ مِنَ الملائكة۔“ یعنی ابو یزید ہم صوفیا میں اس مرتبہ پر ہیں جو جبرائیل کو ملائحۃ کی نسبت ” : سے ہے“ دیکھئے منزِلَة کا استعمال خالص عربی ثابت ہوا ب : - الهام زیر بحث کا ترجمہ یہ ہے کہ : ” تو میری طرف سے میرے بیٹے کے مرتبہ پر ہے۔اور مراد یہ ہے کہ تو حضرت عیسی کے مرتبہ پر ہے اور ان کا مثیل ہے جنہیں۔عیسائی میر اپنا قرار دیتے ہیں۔دو الهام أنت منی بمنزلة ولدی میں والد کی اضافت ہائے متکلم کی طرف یا تو اضافت بادنی ملا ہمت سے یا اضافت مجاز ہے۔قرآن کریم میں ایسی اضافت بادنی ملامت کی مثال " اين شرکایی" میں شرکاء کی پائے متکلم کی طرف اضافت ہے۔اس جگہ شرکاء سے مراد مشرکین کے وہ معبود ہیں جنہیں وہ اپنے زعم میں بعض خدائی صفات میں شریک سمجھتے تھے۔پس اس جگہ شرکاء کی اضافت یائے متکلم کی طرف مشرکین کے زعم باطل کے لحاظ سے کی گئی ہے۔حالانکہ خدا کا حقیقت میں کوئی شریک نہیں اسی طرح العام أنتَ مِنّى بمنزلة ولدئ میں والد کی یائے متکلم کی طرف اضافت عیسائیوں کے مزعوم ولد اللہ کے لحاظ سے ہو گی جو حضرت عیسی ہیں۔حالانکہ حقیقت میں خدا کی کوئی اولاد نہیں۔اس صورت میں مراد اس الہام سے یہ ہوگی کہ خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ تو میری طرف سے حضرت عیسی کے مرتبہ پر ہے جنہیں عیسائی ولد اللہ خیال کرتے ہیں ( کو حقیقت میں خدا کا کوئی بیٹا نہیں ) اگر اس جگہ اضافت مجاز قرار دی