تحقیقِ عارفانہ — Page 499
۴۹۹ اور حضرت محی الدین ابن عربی اس کی وجہ یہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں قرآن کا ذوق دینا چاہتا تھا۔فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۲۸۷) سوال سوم: الف : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالهُدى وَدِينِ الْحَقِّ وَتَهذيب - الاخلاق۔نقل کر کے لکھتے ہیں :- یہ تہذیب الاخلاق کا جوڑ کس قدر غیر قرآنی و اجنبی ہے ؟ (حرف محرمانه صفحه ۳۲۳) الجواب : برق صاحب ! تہذیب الاخلاق کا لفظ اجنبی اور غیر قرآنی آپ کو صرف اس لئے نظر آرہا ہے کہ قرآنی آیت میں یہ لفظ موجود نہیں ورنہ یہ لفظ عربی سے اور اس میں کوئی امر خلاف فصاحت نہیں اور نہ ہی اس فقرہ میں کوئی بات قواعد عربیہ اور فصاحت کے خلاف ہے- ب : - العام أنت منی بمنزلة ولدی کے متعلق برق صاحب لکھتے ہیں :- ا : - یہ منزلہ کا استعمال خالص پنجابی قسم کا ہے۔ب :- اللہ کی کوئی اولاد نہیں جب مشبہ بہ ہی مفقود ہے تو پھر یہ تشبیہ کیسے صحیح ہوئی۔“ الجواب : ” منزل کا استعمال اس الہام میں خالص عربی ہے۔اور برق صاحب کا اس کے استعمال کو پنجابی قسم کا قرار دینا خود عربی محاورات سے ناواقفی کا ثبوت ہے یہ لفظ عربی زبان میں محل نزول یعنی گھر کے علاوہ رتبہ کے معنوں میں بھی آتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں : - "له عند الامیر منزلہ کہ اسے امیر کے پاس مرتبہ حاصل ہے یا کہتے ہیں هُوَ رَفِيعُ المَنزِلَةِ کہ وہ اونچے مرتبے والا ہے۔“ ( ملاخطہ ہوالمنجد) پھر مشہور حدیث نبوی میں ہے : - آلا ترضى يَا عَلَى أَنتَ مِنِّي بِمَنزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسی یعنی اے علی کیا تو اس بات میں راضی نہیں کہ تو مجھ سے ایسے