تحقیقِ عارفانہ — Page 406
۴۰۶ کا اقرار کریں کہ اس پیشگوئی کے عرصہ میں اسلامی رُعب ایک طرفۃ العین کے لئے بھی نہیں آیا۔اور میں اسلام اور نبی اسلام کو ناحق پر سمجھتا رہا ہوں اور سمجھتا ہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا اور حضرت عیسی کی ابجیت اور الوہیت پر یقین رکھتارہا ہوں اور رکھتا ہوں اور ایسا ہی یقین جو فرقہ پر اسسٹنٹ کے عیسائی رکھتے ہیں اور اگر میں نے خلاف واقعہ کہا ہے اور حقیقت کو چھپایا ہے تو اے قادر خدا تو مجھ پر ایک برس میں عذاب موت نازل کر اور اس دُعا پر ہم آمین کہیں گے۔اور اگر دُعا کا ایک سال تک اثر نہ ہوا اور وہ عذاب نازل نہ ہوا جو جھوٹوں پر نازل ہوتا ہے تو ہم ہزار روپیہ مسٹر عبداللہ آتھم کو بطور تاوان دیں گے۔چاہیں تو پہلے کسی جگہ جمع کرالیں اور اگر وہ ایسی درخواست نہ کریں تو یقینا سمجھو کہ وہ کا ذب میں اور کھلو کے وقت اپنی سزلا ئیں گے۔ہمیں صاف طور پر الہاما معلوم ہو گیا ہے کہ اس وقت تک عذاب موت کے ٹلنے کا یہی باعث ہے۔کہ عبد اللہ آتھم نے حق کی عظمت کو اپنی خوفناک حالت کی وجہ اسے قبول کر کے ان لوگوں سے کسی درجہ مشابہت پیدا کر لی ہے جو حق کی طرف رجوع کرتے ہیں۔اس لئے ضروری تھا کہ انہیں کسی قدر اس شرط کا فائدہ ملتا۔(انوار الاسلام صفحہ (۶) اوپر کی عبارت میں مذکور تاوان کے حصول کے بارہ میں درخواست کے متعلق حضرت اقدس نے لکھا : - درخواست اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد ایک ہفتہ تک ہمارے پاس آنی چاہیئے تا جو جھوٹا ہو وہ ہلاک ہو۔خدا ہم سچ کہتے ہیں کہ مسٹر عبد اللہ آتھم عظمت اسلامی کو قبول کر کے اور حق کی طرف رجوع کر کے چا ہے۔اب سارا جہاں دیکھ رہا ہے اگر مسٹر عبداللہ آتھم کے نزدیک ہمارا یہ میان صحیح نہیں ہے تو وہ اس دوسری جنگ کو قبول کریں گے۔جبکہ سانچ کو آنچ نہیں تو ان کو مقابلہ سے کیا اندیشہ ہے ؟ (انوار الاسلام صفحہ ۶)