تحقیقِ عارفانہ — Page 25
۲۵ ہو گیا ہے۔پس شریعت کا لانا نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے“۔پھر انہوں نے شریعت کو نبوت پر ”امر عارض“ یعنی ایک زائد وصف قرار دیا ہے۔نبوت کا ذاتی وصف قرار نہیں دیا۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں۔فَلَمَّا كَانَتِ النُّبُوَّة أشرف مرتبةٍ وَاكْمَلَهَا يَنتَهِي إِلَيْهَا مَنِ اصْطَفَاهُ اللَّهُ 66 مِنْ عِبَادِهِ عَلِمْنَا أنَّ التشريع أمْرُ عَارِض " يكون عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ يَنزِلُ فِيْنَا حَكَمًا مِنْ غَيْرِ تَشْرِيع وَهُوَ نَبِيُّ بِمَا شَيْدٌ (فتوحات مکیہ جلد ا صفحه ۵۷۰) یعنی نبوت وہ اشرف اور اکمل مرتبہ ہے جس پر وہ شخص پہنچتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا ہو تو ہم نے جان لیا کہ شریعت کا لانا ایک امر عارض ہے ( یعنی نبوت مطلقہ کی حقیقت ذاتیہ پر ایک وصف زائد ہے) کیونکہ حضرت عیسی ہم میں بغیر شریعت جدیدہ حکم بن کر نازل ہوں گے اور وہ بلا شبہ نبی ہوں گے۔“ اس سے ظاہر ہے کہ نبوت کو شریعت سے ایک الگ امر مانا گیا ہے جو نبوت پر ایک وصف زائد ہوتا ہے۔ہاں چونکہ یہ وصف زائد یعنی شریعت نبی کو ہی ملتی ہے غیر نبی کو نہیں ملتی۔اس لئے برق صاحب جیسے لوگ دھوکا کھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہر نبی کا شریعت لانا ضروری ہے۔اگر وہ یہ کہتے کہ ہر نبی کے لئے ایک شریعت رکھنا ضروری ہے تو پھر ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہ ہوتا۔کیونکہ شریعت کے بغیر تو ایک مومن بھی۔نہیں ہو تا چہ جائیکہ بغیر شریعت کے ایک نبی ہو۔خاتم النبین کی تفسیر حضرت اقدس بائی سلسلہ احمدیہ نے خاتم النبیین کی تفسیر میں لکھا ہے :- اللہ جلشانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم منایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپکا نام خاتم النبیین شهر یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش