تحقیقِ عارفانہ — Page 308
۳۰۸ اس کے بعد علمی حصہ آتا ہے۔جس کی زبان اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ بار بار پڑھنے سے بھی کچھ پلے نہیں پڑتا۔تصوف و منطق کی اصطلاحات کا استعمال کچھ اس طریق سے ہوا ہے کہ ان اصطلاحات کا عالم بھی گھبراجائے۔“ اس کے بعد انہوں نے براہین احمدیہ سے تین اقتباسات اپنے اس خیال باطل کے ثبوت میں پیش کئے ہیں۔پیشتر اس کے کہ میں وہ اقتباسات اپنے ناظرین کتاب کے سامنے رکھوں یہ بتانا ضروری ہے کہ براہین احمدیہ ایک علمی رنگ کی کتاب ہے۔اور یہ ان علماء مذاہب کی خاطر لکھی گئی ہے جنہیں قرآن کریم کی حقیقت اور حقانیت پر اعتراض تھا۔غالباً اس زمانہ کے لٹریچر میں سے مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے آریوں کے مقابلہ میں بیانات اور مسلمان علماء سے مباحثات برق صاحب کی نظر سے نہیں گزرے۔اگر وہ ان کی نظر سے گزرتے تو پھر وہ حضرت مسیح موعود کی ان عبارات کو کبھی بصورت اعتراض پیش نہ کرتے۔ان عبارات کے متعلق برق صاحب کا یہ بیان کہ ان کی زبان اس قدر الجھی ہوئی ہے کہ بار بار پڑھنے سے بھی کچھ پلے نہیں پڑتا سر اسر تعصب کا کر شمہ ہے۔ان کا پیش کردہ اقتباس اول یہ ہے :- اور یہ اصول عام جو ہر یک صادر من اللہ سے متعلق ہے دو طور سے علامت ہوتا ہے اول قیاس سے ! کیونکہ از روئے قیاس صحیح و مستحکم کے خدا کا اپنی ذات اور صفات اور افعال میں واحد لاشریک ہو نا ضروری ہے اور اس کی کسی صنعت یا قول یا فعل میں شراکت مخلوق کی جائز نہیں۔(براہین احمدیہ حصہ دوم صفحه ۱۴۶ طبع اول) اس عبارت میں جس اصول عام کا ذکر موجود ہے اس کی تفصیل اس عبارت " سے پہلے صفحہ ۱۴۶۱۴۵ پر یوں درج ہے :- جو چیز محض قدرت کا ملہ خدا تعالیٰ سے ظہور پذیر ہو۔خواہ وہ چیز اس کی