تحقیقِ عارفانہ — Page 300
۳۰۰ ایک مسودہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں مذکورہ دعا صرف ایسی صورت میں فیصلہ کن اور نتیجہ خیز قرار دی جاسکتی تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس طریق فیصلہ کو منظور کر لیتے چونکہ انہوں نے منظور نہیں کیا۔اس لئے برق صاحب کا اس دعا کو فیصلہ کن قرار دینا سراسر سچائی سے دشمنی اور عناد کا ثبوت ہے۔غلام دستگیر قصوری نے یکطرفہ دعائے ہلاکت کی تھی۔چنانچہ وہ حضرت اقدس کی زندگی میں ہلاک ہو کر آپ کی صداقت کو ثابت کر گیا۔مولوی ثناء اللہ صاحب کے بالمقابل حضرت اقدس نے کوئی یکطرفہ دعا نہیں کی۔ہاں ایک دعا تجویز کی تھی چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس تجویز کو نہ مانا اس لئے مباہلہ وقوع میں نہ آیا۔میر ناصر نواب صاحب کی روائت اس موقعہ پر حضرت اقدس کی وفات کے ذکر میں برق صاحب نے میر ناصر نواب صاحب کی ایک روایت بھی نقل کی ہے۔کہ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔“ ہمیں یہ روائت مسلم نہیں کیونکہ یہ واقعات کے صریح خلاف ہے۔حضرت اقدس نے ہر گز وبائی ہیضہ سے وفات نہیں پائی۔بلکہ آپ نے اسمال کی پرانی بیماری ہی کے حملہ پر وفات پائی ہے۔نہ کہ ہیضہ سے۔چنانچہ آپ کی وفات پر آپ کے معالج ڈاکٹر سدر لینڈ پرنسپل کالج لاہور نے سر ٹیفکیٹ میں لکھا تھا کہ آپ کی وفات اعتصامی اسمال کی ہماری سے ہوئی ہے۔برق صاحب لکھتے ہیں :- ہیضہ تھا یا نہیں اس کا فیصلہ اطباء پر چھوڑتا ہوں۔“ سو وہ اطباء جو آپ کے معالج تھے وہ تو سب ڈاکٹر سدر لینڈ صاحب کی رائے