تحقیقِ عارفانہ — Page 286
۲۸۶ اس سے تین شہبے پیدا ہوتے ہیں جن کے ازالہ کی طرف جناب کو فورا ہوم گورنمنٹ کو توجہ دلانی چاہیئے۔اول :- یہ سکیم وزیر نو آبادی ہائے نے تیار کی ہے جس کا آزاد ممالک سے کوئی تعلق نہیں۔دوم : - فارن تعلقات کا کسی حکومت کے سپرد کر دیا آزادی کے صریح منافی ہے۔سوم : اندرون ملک میں امن کے قیام کی شرط آزادی کے مفہوم کو اور بھی باطل کر دیتی ہے۔یہ تو گور نمنٹ کے اصلی کاموں میں سے ہے۔اس شرط کے سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ اگر کسی وقت ملک میں فساد ہوگا تو بر طانیہ کی حکومت کا حق ہو گا کہ وہاں کی حکومت کو بدل دے یا وہاں کے انتظام میں دخل دے یا فوجی دخل اندازی کرے۔اور یقینا اس قسم کی آزادی کوئی آزادی نہیں یہ پوری ماتحتی ہے۔اور فرق صرف یہ ہے کہ حکومت بر طانیہ حجاز پر براہ راست حکومت نہ کرے گی۔بلکہ ایک مسلمان سردار کی معرفت حکومت کرے گی۔اگر حجاز کی حکومت اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتی تو اس کو ترکوں کو انہی شرائط پر واپس کر دینا چاہیئے۔جن شرائط پر مسٹر چرچل اسے انگریزی حکومت کے ماتحت رکھنا چاہتے ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ جناب اس غلط قدم کے اٹھا دینے کے خطرناک نتائج پر ہوم گورنمنٹ کو فورا توجہ دلائیں گے اور اس کے نتائج کو جلد شائع فرمائیں گے۔ترکی کی حمایت الفضل جلد نمبر امور محمد ن۴ جولائی (۱۹۲ء) حضرت امام جماعت احمد یہ ۱۹۲۱ء میں اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں :- ہم نے باوجود بے تعلق اور علیحدہ ہونے کے پھر بھی معاہدہ ترکی کے بارہ میں اتحادیوں سے جو غلطیاں ہوئی تھیں۔ان کے متعلق گور نمنٹ کو مشورہ دیا کہ ان