تحقیقِ عارفانہ — Page 264
نهم ۲۶ مشعہ ہو تا۔تو لاکھوں بندگان خدا زنا سے بچ جاتے۔“ (آریہ دھرم صفحہ ۶۹) نیز مشورہ دیا :- -۲- کمانڈر انچیف افواج ہند کو یہ بھی انتظام کرنا چاہیئے کہ بجائے ہندوستانی عورتوں کے یور چین عورتیں ملازم رکھی جائیں مخالفین کا سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ ہندوستان کی غریب عورتوں کو دلالہ عورتوں کے ذریعہ سے اس فحش ملازمت کی ترغیب دی جاتی ہے۔" (آریہ دھرم صفحہ اے ) یہ دونوں اقتباس دینے کے بعد جناب برقی صاحب لکھے ہیں :- اللہ کا ایک رسول ان اقدامات کو کیسے پسند کر سکتا تھا۔“ الجواب (حرف محرمانه صفحه ۱۶۶) دوسرا اقتباس برق صاحب نے حضرت اقدس کی طرف منسوب کرنے میں صریح غلط بیانی سے کام لیا ہے تاوہ حضرت اقدس پر یہ اعتراض کر سکیں کہ :- ایک رسول سے ایسے مشورہ کی توقع نہیں ہو سکتی۔حالانکہ یہ عبارت دراصل اخبار عام کے ایک مضمون کی ہے جو آر یہ دھرم صفحہ اے میں اخبار عام سے درج کیا گیا ہے۔عبارت کو نقل کرنے سے پہلے حضرت اقدس لکھتے ہیں :- اسی پہلے قانون کے جاری کرنے کے لئے اب پھر سلسلہ جنبانی ہو رہی ہے۔اور ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس جگہ اخبار عام ۹ر نومبر ۱۸۹۵ء کا وہ مضمون جو اس بحث کے متعلق ہے بجسم لکھ دیں۔اور وہ یہ ہے۔“ اس کے بعد وہ مضمون آریہ دھرم میں قانون دکھائی کے عنوان کے تحت درج کیا ہے جس سے جناب برق صاحب نے یہ دوسرا اقتباس لیا ہے پس خدا کے