تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 265 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 265

۲۶۵ رسول کی طرف سے یہ مشورہ نہیں۔بلکہ یہ اخبار عام کے مضمون نگار کا مشورہ ہے۔پہلا اقتباس بے شک حضرت اقدس کی اپنی تحریر ہے جس میں آپ پہلے آریوں کو مخاطب کرتے ہوئے متعہ کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں۔کیونکہ آریہ نیوگ کے مقابلہ میں متعہ پیش کرتے تھے۔اور فرماتے ہیں۔ا اسلام میں متعہ کے احکام ہر گزند کور نہیں نہ قرآن میں نہ حدیث میں۔-۲- اگر بعض حدیثوں پر اعتبار کیا جائے تو صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ جب بعض صحابہ اپنے وطنوں اور اپنی جو روس سے دور تھے تو ایک دفعہ ان کی سخت ضرورت کی وجہ سے تین دن تک متعہ ان کیلئے جائزر کھا گیا تھا۔اور بعد اس کے ایسا ہی حرام ہو گیا۔جیسا کہ اسلام میں خنزیر وشراب وغیرہ حرام ہیں۔۳- اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے متعہ عرب میں نہ صرف جائز بلکہ عام رواج رکھتا تھا۔اور شریعت اسلام نے آہستہ آہستہ عرب رسوم کی تبدیلی کی ہے۔سو جس وقت بعض صحابہ متعہ کے لئے بے قرار ہوئے۔سو اس وقت آنحضرت ﷺ نے انتظامی اور اجتہادی طور پر اس رسم کے موافق بعض صحابہ کو اجازت دے دی۔کیونکہ قرآن میں اس بارہ میں کوئی مخالفت نہ آئی تھی۔پھر ساتھ ہی چند روز کے بعد نکاح کی مفصل اور مبسوط ہدائتیں قرآن میں نازل ہوئیں جو متعہ کے مخالف اور متضاد تھیں اس لئے ان آیات سے متعہ کی قطعی طور پر حرمت سلامت ہو گئی۔یہ بات یاد ر کھنے کے لائق ہے کہ گو متعہ صرف تین دن تک تھا۔مگر وحی اور الہام نے اس کے جواز کا دروازہ نہیں کھولا۔بلکہ پہلے سے ہی وہ عرب میں رائج تھا اور جب صحابہ کو بے وطنی کی حالت میں اس کی ضرورت پڑی تو آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ متعہ ایک نکاح موقت ہے۔کوئی حرامکاری اس میں نہیں۔کوئی ایسی بات نہیں کہ جیسی خاوند والی عورت دوسرے سے ہم بستر ہو جاوے۔بلکہ در حقیقت بیوہ یا با کرہ سے ایک نکاح ہے جو ایک وقت تک مقرر