تحقیقِ عارفانہ — Page 206
۲۰۶ پس اِمَا مُكُمْ مِنْكُمُ اور فَامَّكُم مِنكُمْ کے الفاظ اس موعود کا نام بطور استعار و ائن مریم رکھا جانے کے لئے قومی قرینہ ہیں۔ہمارے نزدیک قرآن مجید اور حدیث کی یہ پیشگوئی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں پوری ہو چکی ہے اور آپ ہی اس امت کے مسیح موعود ہیں اور حضرت عیسے سے مشاہبت تامہ رکھتے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس آیت سے یہی استنباط فرمالیا ہے چنانچہ خود برق صاحب نے آپ کی کتاب ”شہادت القرآن“ صفحہ ۲۶ تا ۲۸ سے اور پھر صفحہ ۶۹ سے اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔اس کے بعد آپ کی کتب سے چند حوالہ جات حضرت عیسی سے بعض وجوہ مماثلت پر بھی پیش کئے ہیں لیکن افسوس ہے کہ اس بارہ میں انہوں نے آپ کی تحریرات سے ان تمام وجوہ مماثلت کو بیان نہیں کیا جن کا پایا جانا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے اور صحیح" کے وجود میں ثابت کیا ہے۔بہر حال ان اقتباسات سے برق صاحب نے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے ہیں۔اول : - آیت میں کما کا لفظ حضور کو حضرت موسیٰ" کا مثیل ثابت کرتا ہے۔( یعنی آیت كما ارسلنا إلى فرعون رسولاً (المزمل : ۱۶ میں) دوم : - مماثلت سے مراد مماثلت تامہ ہے یعنی دونوں سلسلوں (موسوی و محمدی) کے خلفاء تعداد میں برابر تھے اور مسیح اور موسیٰ کے درمیان اتنا ہی زمانہ حائل تھا جتنا مسیح موعود اور حضور پر نور (آنحضرت ﷺ ) میں۔نیز موسوی سلسلہ میں بارہ خلفاء تھے اور تیر ھواں مسیح تھا۔سوم : - جناب مرزا صاحب ختم الخلفاء ( یعنی آخری خلیفے ) تھے۔چهارم : - جس طرح حضرت مسیح اسرائیلی نہیں تھے اسی طرح مرزا صاحب بھی قریشی نہیں تھے۔سلسلہ محمدیہ کا پہلا خلیفہ حضرت ابو بکر اور بار ہواں خلیفہ سید احمد بریلوی تھا۔