تحقیقِ عارفانہ — Page 207
مماثلت پر برق صاحب کی تنقید کی جزو اول ان پانچ نتائج کو لکھنے کے بعد برق صاحب نے ان پر جداگانہ نظر ڈالی ہے۔چنانچہ اپنی تنقید کی جزواول میں وہ لکھتے ہیں :- "کما حرف تشبیہ ہے۔اور تشبیہ کے لئے مکمل مشابہت مماثلت تامہ) ضروری نہیں۔" (صفحہ ۱۲۰) پھر لکھتے ہیں :۔" تشبیہ کے لئے صرف ایک پہلو میں مشابہت یعنی ایک وجہ شبہ کافی ہوتی ہے۔زید کو شیر سے تشبیہ دینے کے لئے صرف شجاعت کافی ہے۔ضرورتی نہیں کہ زید پہلے میں برس جنگل میں رہے۔وہاں ہرنوں اور گیدڑوں کا گوشت کھانا سیکھے۔دھاڑنے کی مشق کرے۔کہیں سے چار ٹانگیں اور ایک پونچھ لائے اور پھر ہم اسے شیر کہیں۔“ پھر لکھتے ہیں : -- ( حرف محرمانہ صفحہ ۱۲۲-۱۲۳) اگر تشبیہ ہر جگہ جزئی ہوتی ہے تو پھر قرآن کی آیت زیر بحث میں کما سے مکمل تشبیہ مراد لے کر اس پر سلسلہ خلافت و مسیحیت تعمیر کرنا ایک ایسا اقدام ہے جس کی تائید کہیں سے نہیں مل سکتی۔آیت زیر بحث میں اللہ تعالٰی نے ایک سیدھی سی بات کی ہے کہ ہم نے اے اہل عرب تمہاری اصلاح کے لئے اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے۔جیسا کہ پہلے فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔یہاں کئی وجوہات تشبیہ موجود ہیں۔اول فرعون اور اہل عرب کا ہر دو کا بہ کار و ظالم ہونا موسیٰ اور حضور ہر دو کو آتشی شریعت ملنا دونوں کا صاحب السیف و الکتاب ہوتا۔“ "موسیٰ کا فرعون کے ہاں پل کر فرعون کے خلاف اٹھنا اور حضور کا عربوں میں پل کر ان کے خداؤں کے خلاف ار او بناوت بلند کرنا وغیرہ وغیرہ۔( حرف محرمانہ صفحہ ۱۲۲)