تحقیقِ عارفانہ — Page 191
191 کی اطاعت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی اطاعت بھی شرط ہے جس سے الگ ہو کر کوئی شخص ان چاروں مدارج قرب میں سے قرب الہی کا کوئی مرتبہ نہیں پاسکتا۔یہ فخر صرف مسلمانوں کو حاصل ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت میں انہیں چاروں مدارج مل سکتے ہیں محترم برق صاحب کو ہمارے اس استدلال سے اختلاف ہے وہ لکھتے ہیں۔آیت میں مع (ساتھ رفاقت ہمراہ ہونا ) کا لفظ ہے یعنی وہ لوگ انبیاء کی رفاقت میں ہوں گے۔نہ کہ خود نبی بن جائیں گے۔گورنر کے ساتھ ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ساتھی بھی گورنر ہیں۔“ (حرف محرمانه صفحه ۱۰۲) جناب برق صاحب ! اس آیت میں صرف انبیاء کی رفاقت ہی کا ذکر نہیں بلکہ صدیقوں، شہداء ، اور صالحین سے بھی رفاقت کا ذکر ہے اور پھر اس رفاقت کو آیت کے آخری حصے میں اچھی رفاقت قرار دیا گیا ہے۔بے شک ضروری نہیں کہ گورنر کا رفیق گورنر ہو۔لیکن یہ آیت چونکہ صرف نبیوں سے ہی رفاقت کا ذکر نہیں کرتی۔بلکہ تین اور گروہوں سے رفاقت کا ذکر بھی کرتی ہے اور اسے رفاقت حسنہ ٹھہراتی ہے۔اس لئے اگر اس رفاقت حسنہ سے یہ مراد ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کرنے والے نبی نہیں بن سکتے۔صرف ان کو نبیوں کی ظاہری رفاقت حاصل ہو سکتی ہے تو پھر الله باقی حصہ آیت کے معنی یہ بن جائیں گے کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کرنے والے صدیق، شہید اور صالح بھی نہیں بن سکتے۔بلکہ صرف ظاہری طور پر ان کے ساتھ ہوں گے۔کیونکہ چاروں مدارج واو عاطفہ کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں۔اس لئے اگر نبیوں کے ساتھ ہونے کا حکم یہ ہو کہ وہ نبی نہیں بن سکتے تو باقی تین مدارج کا حکم بھی یہی ہو گا کہ وہ صدیق، شہداء اور صالح بھی نہیں بن سکتے اور یہ معنی آنحضرت ﷺ کے مصدر فیوض ہونے کی شان کے صریح منافی ہیں۔اس طرح تو نبوت کو ہر قرار دیتے دیتے آپ کی امت کو اس سے نچلے درجوں صدیقیت اور شہادت