تحقیقِ عارفانہ — Page 152
۱۵۲ احمد یہ فرماتے ہیں۔" وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ الاية - “ (النُّور : ۵۶) " خلفاء کے تقرر کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا اسی وعدہ میں وہ خاتم الخلفاء بھی شامل ہے اور نص قرآنی سے ثابت ہے کہ وہ موعود ہے جو مخلط ایک نقطہ سے شروع ہو گا وہ ختم بھی ایک نقطہ پر ہی ہو گا۔پس جیسے وہاں موسوی سلسلہ میں خاتم صحیح ہے یہاں بھی وہ خاتم خلفاء ہے۔اس لئے یہ اعتقاد اسی قسم کا ہے کہ اگر کوئی انکار کرے اس امت میں مسیح موعود نہ ہو گاوہ قرآن سے انکار کرتا ہے۔اور اس کا ایمان جاتا رہے گا۔یہ بالکل واضح بات ہے۔" (ملفوظات مسیح موعود جلد ۲ صفحه ۲۵۱،۲۵۲ طبع اول) پھر آپ شہادت القرآن میں فرماتے ہیں :- مماثلت تامہ کاملہ استخلاف محمدی کی استخلاف موسوی سے مسیح موعود کا آنا ضروری ٹھہراتی ہے۔جیسا کہ آیت مندرجہ ذیل سے مفہوم ہوتا ہے۔یعنی آیت وعد اللهُ اللَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمَ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الذِينَ مِن قبلهم کن - ( النور :۵۶) صاف بتارہی ہے کہ ایک مجدد حضرت مسیح کے نام پر چودھویں صدی میں آنا ضروری ہے۔کیونکہ امر استخلاف محمدی امر استخلاف موسوی سے اسی حالت پر اتم اور اکمل مشابہت پیدا کر سکتا ہے۔جب کہ اول زمانہ اور آخری زمانہ با ہم نہایت درجہ کی مشابہت رکھتے ہوں۔اور آخری زمانوں کی مشابہت دو باتوں میں تھی۔ایک امت کا حال ابتر ہونا اور دنیا کے اقبال میں ضعف آجانا اور دینی دیانت اور ہمدردی اور تقویٰ میں فرق آجانا۔دوسرے ایسے زمانہ میں ایک مجدد کا آنا جو مسیح موعود کے نام پر آوے۔اور ایمانی حالت کو پھر حال کرے۔“ (شهادت القرآن صفحه ۶۸ طبع اوّل) پس برق صاحب کا یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے کہ مسیح موعود یا ایک میل