تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 130 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 130

۱۳۰ اس عبارت کو اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہوئے جناب برق صاحب نے حسب عادت تحریف سے کام لیا ہے۔۷ ، جولائی ۱۹۲۲ء کے خطبہ مندرجہ الفضل میں حضرت امام جماعت احمدیہ کے الفاظ یہ ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کسی کو رسول کریم مے سے پڑھنے سے نہیں۔اگر کسی شخص میں ہمت ہے تو بڑھ جائے مگر وہ بڑھے گا نہیں کیونکہ محمد رسول صلى الله اللہ ﷺ نے جو قربانی دی ہے کوئی وہ قربانی دینے کا اہل نہیں۔یہ صاف بات ہے کہ بڑھ سکتا اور چیز ہے اور بڑھنا اور چیز۔بڑھ سکنے کے یہ معنی ہیں کہ ہر شخص کے لئے آگے بڑھنے کا موقعہ ہے اور یہ راستہ اس کے لئے پر نہیں بلکہ کھلا تھا۔لیکن جب کوئی شخص آپ سے بڑھا نہیں تو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ نے جو عشق کا نمونہ دکھایا ویسا نمونہ اور کوئی نہیں دکھا سکا۔عام آدمی تو الگ رہے وه نمونه ایرانیم موسی اور عیسی بھی نہیں دکھا سکے۔پھر یہی مضمون ۱۱ فروری ۱۹۲۲ء کے خطبہ میں یوں بیان فرمایا ہے۔اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا محمد مے سے بھی کوئی شخص بڑا درجہ حاصل کر سکتا ہے ؟ تو میں کہا کرتا ہوں کہ خدا نے اس مقام کا دروازہ بھی پر نہیں کیا۔مگر تم میرے سامنے وہ آدمی تو لاؤ جو محمد ﷺ سے مقامات قرب کے حصول میں زیادہ سرعت اور تیزی کے ساتھ اپنا قدم اٹھانے والا ہو۔ہو سکتا اور چیز ہے اور ہونا اور چیز ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے عیسائیوں سے کہہ دے کہ اگر خدا کا بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہو تا۔اب اس کا یہ تو مطلب نہیں کہ واقعہ میں خدا کا کوئی بیٹا ہے۔اسی طرح ہم یہ نہیں کہتے کہ دنیا میں کوئی شخص ایسا ہے جو محمد رسول اللہ اللہ سے اپنے درجہ میں آگے نکل گیا۔ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر محمد رسول اللہ ﷺ سے کوئی شخص بڑھنا چاہے تو بڑھ سکتا ہے۔