تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 125 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 125

۱۲۵ والی تھی اور اس میں ہر چیز کی تفصیل موجود تھی۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت موسی کو الکتاب یعنی شریعت دی گئی جو بنی اسرائیل کے لئے جامع اور مفصل تعلیمات پر مشتمل تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ قَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُل - (سورة البقره : ۸۸) کہ موسی کے بعد ہم نے کئی رسولوں کو اس کے نشان قدم پر بھیجا۔یعنی موسٹی کے تابع بنایا اور حضرت عیسی کے متعلق بھی جنہیں غلطی سے برق صاحب الشریعت نبی خیال کرتے ہیں۔فرمایا۔و وَقَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ۔(المائدہ : ۴۷) کہ ہم نے ان انبیائے موسوی کے نشان قدم پر ہی حضرت عیسی کو بھیجا۔پس حضرت عیسی شریعت میں موسی کی کتاب توراۃ کے تابع تھے۔یہ سب انبیاء جو موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے۔شریعت موسوی کے ہی پابند تھے اور انہیں کوئی جدید شریعت نہیں دی گئی تھی۔البتہ توراۃ کا مغزان پر کھولا جاتا تھا۔وہ کسی شریعت جدیدہ کے حامل نہیں ہوئے تھے۔صرف تو راہ کی تشریح اس کی تجدید کرنا اور اس کے مطابق فیصلہ دینا ان کا کام تھا۔چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے۔إِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورُ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا۔(المائده : ۴۵) کہ ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور تھا اور اس کے ذریعہ وہ نبی جو خدا تعالیٰ کو ماننے والے تھے۔یہودیوں کے لئے حکم شریعت تھے۔یعنی یہودیوں کے لئے وہ انبیاء احکام تورات کی صحیح تشریح کرتے اور اسے نافذ کرتے تھے۔وہ خود کوئی الگ مستقل شریعت تورات کے علاوہ نہیں رکھتے تھے۔تعجب ہے کہ برق صاحب کو قرآن کریم میں یہ آیت نظر نہیں آئی۔جو نبوت کو دو