تحقیقِ عارفانہ — Page 126
قسموں تشریعی اور غیر تشریعی میں تقسیم کرتی ہے۔أمرٍ دوم برق صاحب کی دوسری بات یہ ہے کہ۔اگر جناب مرزا صاحب کے الہامات انجیل کے ہم پایہ تھے تو پھر کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ایک چھوٹی سی کتاب یعنی انجیل کی بنا پر حضرت عیسی کو تو صاحب کتاب و شریعت رسول تسلیم کیا جائے اور جناب مرزا صاحب کی وحی کو جو بیس اجزاء پر مشتمل ہے نظر انداز کر دیا جائے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۶۵) اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید اس بات پر گواہ ہے کہ اس کے نزول سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے شریعت کی کتاب صرف تورات تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ ہود میں فرماتا ہے۔أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَ يَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إِمَاماً وَّرَحْمَةً (سورۃ ہود : ۱۸) اس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کو قرآن کریم کے بینہ سے پہلے "امام "اور "رحمت قرار دیا گیا ہے۔انجیل اور زیور وغیرہ کو جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کے بعد نازل ہوئیں امام کی حیثیت نہیں دی گئی۔پس موسیٰ علیہ السلام سے بعد آنے والے نبیوں کیلئے جن میں حضرت عیسی علیہ السلام بھی شامل ہیں۔قرآن مجید نے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کو ہی امام یعنی شریعت قرار دیا ہے۔اس کی تائید سورۃ احقاف کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔"وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُو بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَذَا افْكَ قَدِيمٌ * وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ