تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 94 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 94

۹۴ اسلامی اصطلاح میں نبوت ”خدا کی طرف سے ایک کلام پا کر جو غیب پر مشتمل ہو۔زبر دست پیشگوئیاں ہوں۔مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح کے رو سے نبی کہلاتا ہے۔“ نبیوں کی اصطلاح میں نبوت " ( تقریرحمہ اللہ صفحہ ۶ طبع اوّل) جب وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت و کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر وہ امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے۔جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔قرآنی اصطلاح میں نبوت ( الوصیت صفحہ ۱ اطبع اوّل) فَلَا يُظهِرُ عَلَى غَيْبَةٍ أَحَداً إِلامَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولِ ( الحن : ۲۷) یعنی خدا تعالیٰ اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں ملتا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۰ طبع اوّل) لغوی معنی میں نبی سو میں اس وجہ سے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنی ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بھرت پیشگوئی کرنیوالا اور بغیر کثرت کے یہ معنی متحقق نہیں ہو سکتے جیسا کہ ایک پیسہ سے کوئی مالدار نہیں ہو سکتا۔“ آخری مخط ۲۳ مئی ۱۹۰۸ء مندرجه اخبار عام ) اور پھر ان معنوں کے متعلق مزید لکھا ہے۔