تحقیقِ عارفانہ — Page 93
۹۳ شریعت یا احکام جدیدہ لاتا ہے یابلا استفادہ کسی نہبی کے خدا تعالٰی سے تعلق رکھتا ہے اور کسی دوسرے نبی کا امتی نہیں کہلاتا۔مگر یہ تعریف نبوت در اصل قیاسی تھی۔یعنی یہ تعریف پچھلے تمام انبیاء کو سامنے رکھ کر قیاسا تجویز کردہ تھی۔لیکن حضرت اقدس پر ۱۹۰۱ء میں یہ انکشاف ہو گیا کہ نبی کے لئے شریعت کا لانا یا مستقل اور بر اور است ہونا ضروری امر نہیں۔بلکہ نبی کے لئے ضروری امر صرف یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہو اور خدا تعالیٰ اس پر بکثرت امور غیبیہ ظاہر کرے اور اس کا نام نبی اور رسول رکھے۔اسی تعریف نبوت کے ماتحت انبیائے سابقین نبی کہلاتے رہے۔اور آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں وعدہ ہے کہ اس امت کے افراد نبوت کی اس نعمت کو ( یعنی امور غیبیہ کی کثرت کو ) پاسکتے ہیں جس کی وجہ سے پہلے انبیاء نبی کہلاتے رہے۔نبوت کی حقیقت ذاتیہ امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع دیا جانا ہی ہے گویا یہی امر نبوت مطلقہ ہے شریعت کا لانا۔نبوت کی حقیقت ذاتیہ نہیں بلکہ یہ نبوت کی حقیقت عرضیہ ہے جو ضرورت پر صرف نبی کو ملتی ہے۔غیر نبی کو نہیں ملتی۔اس لئے بعض انبیاء بغیر شریعت جدیدہ کے آئے اور بعض شریعت جدیدہ لائے۔جب حضرت اقدس پر یہ انکشاف ہو گیا کہ آپ کو صریح طور نبی کا خطاب دیا گیا ہے تو اس سے آپ پر منکشف ہو گیا کہ نبوت کی معروف تعریف میں ایک خامی ہے اور اصطلاح اسلام، قرآنی اصطلاح اور انبیاء کی اصطلاح میں نبی دراصل صرف اسی کو کہتے ہیں جس کا نام خدا تعالی نبی رکھے۔اور اس پر بکثرت امور غیبیہ ظاہر کرے۔اس پر انکشاف پر آپ نے اپنے لئے جزئی نبی بمعنی محدث کا استعمال ترک فرما دیا۔اور ہمیشہ اپنے تئیں ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی قرار دیا۔اور نبی کی تعریف یہ بیان فرمائی۔