تحقیقِ عارفانہ — Page 71
اء پس العاقب کے معنی اس حدیث میں یہ ہوئے کہ آنحضرت ما تمام انبیاء کے کمالات میں قائمقام ہیں۔گویا جامع جمیع کمالات انبیاء ہیں۔جامع جمیع کمالات ہونے میں آنحضرت ﷺ بے شک آخری فرد ہیں۔مگر العاقب کے معنی محض آخری نبی ہر گز درست نہیں۔کیونکہ العاقب آنحضرت ﷺ کا صفاتی نام ہے۔اور صفاتی نام فضیلت پر دال ہوتے ہیں۔خاتم النبیین کا لقب بھی محل مدح میں استعمال ہوتا ہے۔پس العاقب اور خاتم النبیین کے معنی محض آخری نبی مراد لینا بالذات آنحضرت ﷺ کی کسی فضیلت کو نہیں چاہتا۔محض آخری کسی اچھائی پر بالذات دلالت نہیں کرتا پھر خود آنحضرت می ﷺ نے اپنے بعد مسیح موعود کو نبی اللہ قرار دیا ہے۔پس محض آخری نبی کے معنی اس کے خلاف ہیں۔ہاں آنحضرت ﷺ آخری شارع اور مستقل نبی ضرور ہیں۔کیونکہ مسیح موعود کو حدیثوں میں امتی اور نبی قرار دیا گیا ہے۔نہ کہ شارع یا مستقل نبی اور جامع جمیع کمالات انبیاء ہونے میں بھی آنحضرت مے آخری ہیں۔کیونکہ آپ کے بعد ہونے والے مسیح موعود نبی اللہ کے لئے آپ کا امتی ہونا اور آپ کی شریعت کے تابع ہو نا ضروری ہے۔ان دس حدیثوں کے ذکر کے بعد جناب برق صاحب لکھتے ہیں۔وہ آخری گاڑی کیسی جس کے بعد بھی گاڑیاں آتی رہیں وہ جیب میں آخری پیسہ کیسا جس کے بعد بھی جیب میں دو سو روپیہ باقی رہے۔(حرف محرمانہ صفحہ ۳۶) جناب برق صاحب نے یہ کیسی لغو مثالیں پیش کی ہیں۔جب کہ ساری امت محمد یہ ایک معنی میں آخری نبی حضرت عیسی کو مانتی ہے پس برق صاحب غیر احمدیوں کو کیوں نہیں سمجھاتے کہ میاں حضرت عیسی کو آخری گاڑی کے مشابہ مت قرار دو اور نہ انہیں جیب میں آخری پیسہ کے مشابہ قرار دو۔ہم تو آپ کی یہ مثالیں پڑھ کر حیران ہیں کہ کس طرح علمی ذوق سے محروم ہیں حالانکہ امت محمدیہ میں خاتم الاولیاء ، خاتم