تحقیقِ عارفانہ — Page 72
۷۲ الحفاظ ، خاتم المفسرین، خاتم المحدثین ، خاتم الائمہ، خاتم الشعراء اور خاتم المتکلمین کا محاورہ شائع وذائع ہے۔لیکن کوئی عظمند اسے آخری کے معنوں میں نہیں لیتا۔بلکہ یہ محاورات اکمل فرد کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں جو فضیلت ذاتیہ پر دلالت کرتے ہیں۔چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے۔فمعَ القَرِيضُ بِحَاتم الشعراء وَغَدِيرِ رَوْضَتِهَا حَبَيْبِ الظَّالِي کہ حبیب الطائی خاتم الشعراء کی وفات سے جو شعر کے باغ کا تالاب تھا شعر بہت دردمند ہوا ہے۔اس شعر میں شاعر نے حبیب الطائی کو خاتم الشعراء قرار دیا ہے۔حالانکہ وہ خود بھی شاعر ہے۔اور شعر میں ہی یہ مضمون پیش کر رہا ہے۔پس حبیب الطائی کو خاتم الشعراء ان معنوں میں قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے زمانے میں شاعروں کا استاد تھا۔اور شعر میں کامل دسترس رکھتا تھا۔اور اس کے فیض سے شاعر ہتے تھے۔پس جس طرح خاتم الشعراء وہ ہے جس کے فیض واثر سے شاعر پیدا ہوں اسی طرح خاتم الاولیاء ، خاتم الحفاظ ، خاتم المفسرین ، خاتم المحدثین وہ ہوتے ہیں جن کے فیض سے ولی، حافظ ، مفسر یا محدث پیدا ہوں اسی قسم کا مفہوم خاتم الانبیاء کے مثبت پہلو کا ہے۔یعنی خاتم النبیین وہ نبی ہے جس کے فیض واثر سے انبیاء وجود میں آسکیں۔خاتم النبیین کا الف لام برق صاحب نے خاتم النبیین کا الف لام استغراقی قرار دیا ہے اور ہم بھی اسے استغراقی تسلیم کرتے ہیں۔ہمیں ان سے صرف خاتم کے معنوں میں اختلاف ہے۔وہ خاتم کے معنی مطلق آخری یا محض آخری لیتے ہیں جو کسی ذاتی فضیلت پر دال نہیں اور