تحقیقِ عارفانہ — Page 626
۶۲۶ وَالتَدْوِينِ فَلا شَكَ أَنَّهُ آيَةً مِنَ الآيَاتِ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يَنْطِقَ كَمِثْلِي مُرْتَجِلاً مُسْتَحْضِرًا فِي مِثل هذه العبادات ترجمہ : یعنی یہ وہ کتاب ہے جس کا ایک حصہ عیدوں میں سے ایک عید میں مجھے مخلوق کے رب کی طرف سے الہام ہوا ہے اور میں نے اسے حاضرین کے سامنے روح الامین کے بلانے سے پڑھا ہے۔اسے نہ پہلے لکھا گیا ہے اور نہ مدون کیا گیا ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔اور کسی انسان کو یہ طاقت نہیں کہ میری طرح علی البدیہ اس قسم کی عبارت میں خطبہ دے سکے۔جناب برق صاحب نے خطبہ الہامیہ پر بھی کچھ ادبی اعتراض کئے ہیں جن کا تعلق زیادہ تر دوسرے ابواب سے ہے۔پہلے باب پر صرف ایک ہی اعتراض کیا گیا ہے۔عربی علم ادب کا ذوق رکھنے والا جناب برق صاحب کے اعتراضات پڑھ کر فورا معلوم کر سکتا ہے کہ ان کے یہ اعتراض محض بھرتی کے ہیں۔جن کا اولی غلطیوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ان اعتراضات سے جناب برق صاحب کا عرفی علم ادب سے تھی دست ہونا ظاہر ہے۔ذیل میں اس کے اعتراضات مع جوابات درج ہیں :- - ا : "الَّذِينَ آكَلُو أَعْمَارَ هُمْ فِي ابْتَغِاءِ الدُّنْيَا۔“ 66 (خطبہ الہامیہ صفحہ ۷ ۳ طبع اول) ترجمہ : " ( جو تلاش دنیا میں اپنی عمر کو کھا گئے ) عمر کھانا پنجابی محاورہ ہے۔عربی میں استعمال نہیں ہو تا۔“ الجواب اس عبارت کا جو لفظی ترجمہ برق صاحب نے پیش کیا ہے وہ خطبہ الہامیہ میں