تحقیقِ عارفانہ — Page 617
712 دے گا۔اے نبی ! خدا تعالے مکہ والوں کو تیری موجودگی میں (موعود ) عذاب نہیں 66 : "هذا هُوَ الْترابُ الذِي لَا يَعْلَمُونَ۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۳۱۲ طبع اول) برق صاحب کا اس الہام پر اعتراض یہ ہے :- الجواب " ترجمہ میں نوب کو عمل الترب بنادینا لغوی دراز دستی کی انتا ہے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۳۹۷) القرب کو عمل الترب قرار دینا لغت میں دراز دستی نہیں بلکہ جناب برق صاحب کا الحرب کا الترب پڑھنا علمی بے مانگی کا ثبوت ہے الشرب کے معنی ہم عمر ہیں۔مسمریزم ایک نفسیاتی علم ہے۔جو انسان کے ہم عمر چلا گیا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا نام الترب رکھا۔اس الہام میں التزب کا الف لام عہد کا ہے۔یعنی اس الہام سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر واضح کر دیا گیا تھا کہ مسمریز می طریق کا نام ہمارے نزدیک الترب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی نسبت خود تحریر فرماتے ہیں :- " یہ جو میں نے مسمریز می طریق کا عمل الترب نام رکھا۔یہ الہامی نام ہے۔اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے۔اور اس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ بھی الهام هو اهذا هو الترب الذي لا يعلمون یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کو زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۳۱۲ حاشیہ طبع اول) اس سے ظاہر ہے کہ اس القرب کا عمل القرب ہونا حضرت مسیح موعود پر العام هذا هو الشرب سے پہلے ظاہر ہو چکا تھا۔پس لغوی دراز دستی کا الزام دینے کے