تحقیقِ عارفانہ — Page 557
۵۵۷ باب یازد هم حضرت اقدس کی اردو دانی پر اعتراضات کے جوابات اس کے بعد برق صاحب نے حضرت اقدس کی اردو تحریروں پر زبان دانی کے لحاظ سے کچھ نکتہ چینی کی ہے اور اسے فصاحت و بلاغت کے معیار سے گرا ہوا قرار دیا ہے اور مولانا آزاد اور علامہ نیاز کی تحریروں کی اس کے بالمقابل تعریف کی ہے۔مولانا ابو الکلام آزاد حضرت اقدس مسیح موعود کی وفات پر لکھتے ہیں :- ”مرزا صاحب کی رحلت نے ان کے بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو۔ہاں روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا بھی جو اس کی ذات سے واستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔۔مرزا صاحب کے لٹریچر کی قدر و عظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر نیچے اڑادیئے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں بھی مرزا صاحب نے اسلام کی خاص خدمت سر انجام دی ہے۔۔۔آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے نا ممکن ہے کہ