تحقیقِ عارفانہ — Page 556
۵۵۶ بلکہ صفحہ 19 طبع اول پر درج ہے اور یہ عبارت دراصل ایک حدیث نبوی کا ترجمہ ہے۔اسی جگہ اس عبارت سے پہلے وہ حدیث ان الفاظ میں درج ہے۔يا معشراً لشبان من اسْتَطَاعَ مِنكُمُ البَاءَ فَلْيَتَزَوَّجُ فَا نَّهُ أغض للبصر وأَحْسَنُ للفرج وَمَنْ لَمْ يَستَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وحَاءُ آگے اس کا ترجمہ لکھا ہے : ( صحیح مسلم و مخاری ) ”اے جوانوں کے گروہ جو کوئی تم میں سے نکاح کی قدرت رکھتا ہو تو چاہئیے کہ وہ نکاح کرے۔کیونکہ نکاح آنکھوں کو خوب نیچا کر دیتا ہے اور شرم کے اعضاء کو زنا وغیرہ سے بچاتا ہے۔ورنہ روزہ رکھو کہ وہ خصی کر دیتا ہے۔“ پس برق صاحب کا اعتراض حضرت مرزا صاحب پر نہیں بلکہ آنحضرت عے پر ہوا۔جنہوں نے خود طبی نکتہ بیان فرمایا ہے کہ روزہ رکھنے سے انسان کے شہوانی خیالات ختم ہو جاتے ہیں وجاء کے معنی لسان العرب میں یہ لکھے ہیں :- الوِجَاء أَنْ تُرَض أنتِهَا الفَحْل رَضَا شَدِيد أَيُذْهِبْ شَهَوَةَ الحِمَاعِ یعنی وجاہ کے معنی یہ ہیں کہ نر کے دونوں خصیے سخت چل دئیے جائیں کہ اس کی شہوت جماع جاتی رہے۔پس وجاء کے معنی خصی کرنا ہیں اور حدیث نبوی میں یہ لفظ مجاز شہوانی خیالات کو مٹادینے کے لئے استعمال ہوا ہے۔نہ یہ کہ روزہ حقیقی طور پر خصی کر دیتا ہے۔پس برق صاحب کا یہ اعتراض بھی محققانہ نہیں محض معاندانہ ہے۔☆☆☆