تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 36 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 36

۳۶ ہمیشہ کے لئے آنحضرت ﷺ کا ہی خاص طور پر خاتم النبیین ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ آپ کے ظہور کے بعد جو لوگ آپ کی پیروی اور آپ کی فرزندی اختیار کریں وہی آپکی خاتمیت سے بلند بر ظرف و استعداد متاثر ہو سکیں گے۔اور جو لوگ آپ کو قبول نہ کریں جیسے ہندؤں ، عیسائیوں ، یہودیوں کا حال ہے تو وہ آپ کی نبوت کی اس تاثیر سے محروم ہوں گے۔لہذا آنحضرت میلے کا ابو الا نبیاء ہونا ایسے لوگوں کے لئے نبوت کا دروازه بید قرار دیتا ہے۔جو آپ کی فرزندی کو قبول نہ کریں۔اس لحاظ سے غیروں میں نبوت کا امتناع اور بندش کا پایا جانا خاتم النبیین کے حقیقی معنوں کو لازم ہے۔اسی طرح بعد ظهور خاتم النبیین کا ہمیشہ کے لئے نبوت میں موثر ہونا۔اس بات کی دلیل بھی ہے کہ آپ کی کامل شریعت لانے والے نہی ہیں۔اس لحاظ سے آخری شارع نبی اور آخری ہونا آپ کی خاتمیت کو لازم ہے پس خاتم النبین ملے اپنے فرزندوں کے لئے نبوت میں مؤثر وجود بھی ہیں اور غیروں کے لئے نبوت کا دروازہ ان کے فرزندی اختیار کئے بغیر بند قرار دینے والے بھی۔لہذا آپ آخری شارع اور آخری مستقل نبی بھی ہیں۔لیکن مطلق آخری نبی نہیں کیونکہ یہ مجازی معنی ہیں جن کا حقیقی معنوں کے ساتھ کوئی علاقہ نہیں۔اس لئے یہ معنی اس جگہ مراد نہیں ہو سکتے۔خاتم کے معنی مصدق ہاں خاتم کے ایک معنی ایجاد کے علاوہ مصدق کے بھی ہیں۔چنانچہ احادیث نبویہ سے یہ معنی بھی بہت ہیں۔کیونکہ تصدیق بھی خاتم کی ایک تاثیر ہے۔چنانچہ احادیث میں آیا ہے :- عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَنْ حُرِحَ حَرَاحَةً فِي سَبِيلِ الله يم له بخاتم الشُّهَدَاءِ لَهُ نُورُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَو نُهَا مِثْلَ لَوُنِ الزَعْفَرَانِ وَرِيحُهَا خُتِمَ لَهُ