تحقیقِ عارفانہ — Page 436
الجواب ۴۳۶ اس اعتراض میں جناب برق صاحب نے انتہائی تلبیس سے کام لیا ہے کیونکہ انہوں نے دو عبارتوں کو ”لیکن“ سے جوڑ کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ ادہر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ وحی نازل ہوئی۔قبول ہو گئی نو دن کا بخار ٹوٹ گیا“ اور ادھر وہ لڑکا جس کے متعلق یہ وحی نازل ہوئی تھی۔فورا وفات پا گیا اور یہ الہام الہی پورا نہ ہوا۔لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ الہام خدا تعالٰی کے فضل سے پورا ہوا اور نودن کے بعد صاحبزادہ مبارک احمد کا مخار ٹوٹ گیا۔اور وہ باغ میں سیر کے لئے بھی چلے گئے۔چنانچه بدر ۵ / ستمبری 19ء میں یہ خبر یوں درج کی گئی ہے :- کیا ہی مبارک ہے اس مبارک ( حضرت صاحبزادہ مبارک احمد فرزند مسیح موعود علیہ السلام کا وجود ) جو بہت سے نشانات سماوی کا مظہر ہو کر خود آیت اللہ ہے۔اس کے متعلق تازہ نشان کی تفصیل یہ ہے کہ صاحبزادہ پ شدید سے سخت بیمار ہو گیا تھا۔یہاں تک کہ بار ہا فشی تک نوبت پہنچ گئی۔اکثر تپ ایک سو چار (۱۰۴) سے بھی زیادہ ایک سو پانچ درجہ تک پہنچ جاتا اور سر مارنے کی حالت ایسی تھی جو سر سام کا خوف دلاتی تھی۔رات کے وقت اس نومیدی کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دُعا کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا۔66 قبول ہو گئی۔“ ” نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔“ یعنی دُعا قبول ہو گئی اور تپ جو لازم حال ہو رہا ہے وہ نو دن پورے کر کے دسویں دن ٹوٹ جائے گا۔یہ الہامات اخبار بد ر مور محہ ۲۹؍ اگست ۱۹۰۷ء میں شائع ہو گئے تھے)۔چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔اور خداتعالی نے دسویں دن مطار توڑ دیا۔