تحقیقِ عارفانہ — Page 437
۴۳۷ یہاں تک کہ لڑکا تندرست ہو کر باغ سیر کرنے کے لئے چلا گیا۔یہ خدا کا بڑا نشان تھا جو ظہور میں آیا۔کیونکہ اس میں ایک دُعا کے قبول ہونے کی بشارت ہے اور دوسرے تاریخ صحت مقرر کر دی گئی ہے۔جس کی تمام جماعت گواہ ہے۔“ ۵/ والحکم ۱۳/ (بدر ۵ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۲ دا حکم ۱۳ اگست ۱۹۰۷ء ) پس 1906ء کے الہام کے ساتھ ۱۹۳۳ء کے خطبے کا جوڑ محض تلیس نہیں تو اور کیا ہے ؟ صاحبزادہ مبارک احمد کے متعلق جو الہام تھاوہ صفائی سے پورا ہو گیا تھا کیونکہ ۹دن کے بعد اُن کا بخار ٹوٹ گیا تھا۔لیکن از لی تقدیر میں چونکہ ان کی جلد وفات مقدر تھی اس لئے اس کے بعد ان پر دوسری بیماری کا حملہ ہوا جس سے وہ ۱۴ار ستمبر کو وفات پاگئے۔اُن کے وفات پانے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اور الہام پورا ہو جو آپ پر اُن کی پیدائش سے بھی پہلے نازل ہوا تھا۔چنانچہ حضرت اقدس اپنی کتاب " تریاق القلوب“ میں ہی جس میں اس لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر دے رہے ہیں۔تحریر فرماتے ہیں کہ :- " مجھے خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ میں تجھے اور لڑکا دوں گا۔یہ وہی چو تھا لڑکا ہے جو اب پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا۔اور اس کے پیدا ہونے کی خبر قریبا دو برس پہلے دی گئی اور پھر اس وقت دی گئی جب کہ اس کے پیدا ہونے میں دو مہینے باقی رہتے تھے اور پھر جب یہ پیدا ہونے کو تھا تو یہ الہام ہوا۔إِنِّي أَسْقُطُ مِنَ اللَّهِ أُصِيبُهُ یعنی میں خُدا کے ہاتھ سے زمین پر گرتا ہوں۔اور خدا ہی کی طرف جاؤں گا۔میں نے اپنے اجتہاد سے اس کی یہ تاویل کی کہ یہ لڑکا نیک ہو گا اور رومخدا ہو گا۔اور خدا کی طرف اس کی حرکت ہو گی۔اور یا یہ کہ جلد فوت ہو جائے گا۔اس بات کا علم خدا تعالیٰ