تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 199 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 199

١٩٩ کو جھوٹ موٹ خدا کی طرف منسوب کر دیا ہے۔تا خدا کو یہ فرمانا پڑتا کہ اگر جبریل بھی کوئی قول جھوٹ بنا لیتا تو میں اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگِ گردن کاٹ دیتا۔کیونکہ اس صورت میں یہ جواب اعتراض کے مطابق نہ ہو تا اور کافروں کو اس سے کوئی تسلی نہ مل سکتی جس سے وہ یقین کر سکتے یہ کلام خدا تعالٰی کا ہے۔کیونکہ وہ کہہ سکتے تھے کہ وحی لانے والا فرشتہ تو ہمارے سامنے کبھی آیا ہی نہیں۔وہ تو ایک مخفی وجود ہی ہو سکتا ہے جس کا گرفت میں آنا اور اس کی رگِ جان کا کاٹا جاتا ہم مشاہدہ ہی نہیں کر سکتے۔پس کفار و مشرکین کو کسی وحی لانے والے فرشتے پر اعتراض نہ تھا۔وہ تو محمد رسول اللہ ﷺ کو کاہن اور شاعر قرار دے کر اس کلام کو خود گھڑ لینے والا اور خدا تعالیٰ کی طرف اسے منسوب کرنے والا قرار دے رہے تھے۔لہذا ان کے اعتراض کے جواب میں جس رسول کریم کا ذکر ہو سکتا تھا وہ آنحضرت ﷺ ہی ہو سکتے ہیں جنہیں معترضین ایک انسان یقین کرتے تھے اور یہ بھی سمجھ سکتے تھے کہ ان کی رگِ جان کٹنے سے ان کی ہلاکت واقع ہو سکتی ہے۔لہذا خدا تعالیٰ نے ان کے اعتراضات کے پیش نظریہ فرمایا کہ یہ کلام رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اور محمد رسول اللہ علی اللہ کے منہ سے حیثیت رسول خدا ( پیغامبر اور ایچی) کے نکلا ہے۔اور اگر یہ رسول خدا پر کچھ بھی افتراء کر لیتا تو ہم اس کا دایاں ہا تھ پکڑ کر اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔علاوہ ازیں آیت کے اندر ایک اور زبر دست قرینہ بھی موجود ہے۔جو برق صاحب کی بات کی تردید کر رہا ہے۔یہ قرینہ فمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ کے الفاظ ہیں۔کہ جب خدا قطع و تین کا ارادہ کرے تو تم میں سے کوئی بھی اس کے اس فعل میں روک نہیں ہو سکتا۔صاف ظاہر ہے کہ جہاں تک انسانی روک کا تعلق ہے وہ انسانوں کی طرف سے انسان کو بچانے کے لئے ہی ہو سکتی ہے نہ کہ کسی فرشتہ کو بچانے کے متعلق کسی فرشتہ کے متعلق تو خدا تعالی کا ان الفاظ میں چیلنج دینا معقول ہی نہیں