تحقیقِ عارفانہ — Page 198
۱۹۸ ہوتی ہے لیکن کافروں کے ان دونوں باتوں کا یقین رکھنے کے متعلق کوئی ثبوت موجود نہیں۔اور پھر قرآن کریم کے بیان سے ثابت ہے کہ فرشتے يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کا مصداق ہوتے ہیں یعنی وہ یقینی طور پر معصوم ہوتے ہیں اور جھوٹ نہیں بول سکتے اور از روئے قرآن مجید ملائکہ مادی وجود بھی نہیں رکھتے کہ ان کے لئے رگ گردن تجویز کی جائے۔سوم :- تیسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ مخالفین قرآن مجید کے اعتراضات یہ تھے۔- یہ محمد (رسول اللہ علی ) کا افتراء ہے۔- یا محمد (رسول اللہ ﷺ ) شاعر ہیں یا کا ہن اور انہوں نے قرآن کریم کی یہ باتیں از خود گھڑ لی ہیں۔یہ باتیں خدا کا کلام نہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ان کے ان اعتراضات کے رد میں یہی فرمانا مناسب ہو سکتا ہے کہ یہ باتیں محمد (رسول اللہ ﷺ نے نہیں گھڑیں وہ تو رسول کریم ہیں۔پس ان کا یہ کلام پیش کرنا اپنی طرف سے نہیں بلکہ ان کو رسول کے طور پر بھیجنے والے کی طرف سے ہی ہے۔اور یہ شاعر کا کلام بھی نہیں اور کا اُن کا قول بھی نہیں۔یعنی محمد مصلے ملے کوئی شاعر یا کا ہن بھی نہیں۔بلکہ یہ کلام رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔اگر یہ (رسول کریم) ہماری طرف بعض جھوٹے قول بھی منسوب کر تا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی رگِ جان کاٹ دیتے جس کے کٹ جانے سے اس رگ سے خون بہ جانے پر دل کی حرکت ہی ہو کر موت واقع ہو جاتی ہے۔وحی لانے والے فرشتے کو تو قرآن مجید میں روح قرار دیا گیا ہے۔پس جبریل انسان کی طرح کوئی مادی وجود نہیں رکھتا کہ اس میں انسان کی طرح رگیں اور پٹھے ہوں۔اور دوران خون پر اس کی زندگی کا مدار ہو۔اور اس کیلئے رگ گردن تجویز کی جائے۔کافرول اور مشرکوں کا اس موقعہ پر یہ صلى الله اعتراض تو تھا ہی نہیں کہ محمد (رسول اللہ ﷺ ) پر وحی لانے والے فرشتے نے اس کلام