تحقیقِ عارفانہ — Page 116
و موهبت جمیع کمالات انبیاء متبوعه خود را جذب سے نمایند و بلیت رنگ ایشاں منصبغ می گردند حتی که فرق نمی ماند در میان متبوعان و تابعان الا با لاَ صَالِةِ وَ التَّبْعِيِّةِ والاولية والأخرية “ دیکھئے اس عبارت میں کامل تابعین انبیاء اور ان کے متبوع انبیاء میں یہاں تک اتحاد اور عینیت مانی گئی ہے کہ وہ کلی طور پر اپنے متبوع کے رنگ پر رنگین ہو جاتے ہیں مگر ان میں اصل اور طبل کور اول و آخر کا فرق بھی تسلیم کیا ہے۔آگے وہ اصل اور کل کی مبادی تعنیات میں اختلاف بھی تسلیم کرتے ہیں۔مبادی تعنیات سے مرادان کی وہ مقامات ہیں جو خلیت میں ملتے ہیں۔ان مبادی تعدیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ لکھتے ہیں۔كيف يتصورُ المَسَاوَاتُ بين الأصل والفِل کہ اس لحاظ سے اصل اور کل میں مساوات کیسے متصور ہو سکتی ہے۔پس ظل من وجہ اصل کا عین اور اس سے متحد ہو تا ہے۔اور من وجه اصل کا غیر بھی ہوتا ہے۔پس برق صاحب چونکہ ظلیت کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔اس لئے انہوں نے یہ باتیں لکھ دی ہیں کہ حسب و نسب اور امی ہونے ، مال رکھنے یا نہ رکھنے میں بھی ظل اور اصل میں مساوات ہونی چاہئے۔اور ظل کو اصل کی طرح جنگوں میں بھی حصہ لینا چاہئے اور نئی حکومت بنانی چاہئے چنانچہ انہوں نے ایسی ہی سات باتیں حضرت اقدس کے آنحضرت ﷺ کا ظل ہونے کی تردید میں لکھی ہیں۔اب پیشتر اس کے کہ ہم برق صاحب کی باتوں کا نمبر وار جواب دیں۔یہ بتانا ضروری ہے کہ مبادی تعنیات کے اختلاف کو ملحوظ رکھا جائے تو برق صاحب کے تمام اعتراضات لغو ثابت ہوتے ہیں۔دیکھئے سرورِ کائنات فخر موجودات حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ تعالی کے مظہر اتم تعلیم کئے جاتے ہیں اور الہامی کتابوں میں ان کی آمد خدا کی آمد قرار دی گئی ہے اور قرآن شریف بھی ان کی شان میں فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِینَ